ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 56

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۶ جلد ہفتم صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ٧ ) تو اصل مقصد اور غرض ہے ۔ یہ گو یا زن یه گو یا زنجبیلی شربت ربت اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة : ۷ ) کا فوری شربت ہے۔ اب ایک اور مشکل ہے کہ انسان موٹی موٹی بار یک اور خفی بدیوں سے بچنے کی تلقین ایلیا کو تو آسانی سے چور بھی دیتا ہے بدیوں لیکن بعض بدیاں ایسی باریک اور مخفی ہوتی ہیں کہ اول تو انسان مشکل سے انہیں معلوم کرتا ہے اور پھر ان کا چھوڑنا اسے بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ محرقہ بھی گوسخت تپ ہے مگر اس کا علاج کھلا کھلا ہو سکتا ہے لیکن تپ دق جو اندر ہی کھا رہا ہے اس کا علاج بہت ہی مشکل ہے۔ اسی طرح پر یہ باریک اور مخفی بدیاں ہوتی ہیں جو انسان کو فضائل کے حاصل کرنے سے روکتی ہیں ۔ یہ اخلاقی بدیاں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ اور معاملات میں پیش آتی ہیں اور ذرا ذراسی بات اور اختلاف رائے پر دلوں میں بغض ، کینہ، حسد، ریا، تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور اپنے بھائی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ چند روز اگر نماز سنوار کر پڑھی ہے اور لوگوں نے تعریف کی تو ریا اور نمود پیدا ہو گیا اور وہ اصل غرض جو اخلاص تھی جاتی رہی ۔ اور اگر خدا تعالیٰ نے دولت دی ہے یا علم دیا ہے یا کوئی خاندانی وجاہت حاصل ہے تو اس کی وجہ سے اپنے دوسرے بھائی کو جس کو یہ باتیں نہیں ملی ہیں حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے۔ اور اپنے بھائی کی عیب چینی کے لیے حریص ہوتا ہے اور تکبر مختلف رنگوں میں ہوتا ہے ۔ کسی میں کسی رنگ میں اور کسی میں کسی طرح سے ۔ علماء علم کے رنگ میں اسے ظاہر کرتے ہیں اور علمی طور پر نکتہ چینی کر کے اپنے بھائی کو گرانا چاہتے ہیں۔ غرض کسی نہ کسی طرح عیب چینی کر کے اپنے بھائی کو ذلیل کرنا اور نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ رات دن اس کے عیبوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس قسم کی باریک بدیاں ہوتی ہیں جن کا دور کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور شریعت ان باتوں کو جائز نہیں رکھتی ہے۔ ان بدیوں میں عوام ہی مبتلا نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ جو متعارف اور موٹی موٹی بدیاں نہیں کرتے ہیں اور خواص سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اکثر مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ ان سے خلاصی پانا اور مرنا ایک ہی بات ہے۔ اور جب تک ان بدیوں سے نجات