ملفوظات (جلد 7) — Page 55
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد ہفتم اور پھر ان کی بجائے نیکیوں کے حاصل کرنے کے واسطے سعی اور مجاہدہ سے کام لو۔ اور پھر خدا تعالیٰ کی توفیق اور اس کا فضل دعا سے مانگو۔ جب تک انسان ان دونوں صفات سے متصف نہیں ہوتا یعنی بدیاں چھوڑ کر نیکیاں حاصل نہیں کرتا۔ وہ اس وقت تک مومن نہیں کہلا سکتا۔ مومن کامل ہی کی تعریف میں تو انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فرمایا گیا ہے۔ اب غور کرو کہ کیا اتنا ہی انعام تھا کہ وہ چوری چکاری رہزنی نہیں کرتے تھے یا اس سے کچھ بڑھ کر مراد ہے؟ نہیں۔ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں تو وہ اعلیٰ درجہ کے انعامات رکھے گئے ہیں جو مخاطبہ اور مکالمہ الہیہ کہلاتے ہیں۔ اے اگر اسی قدر مقصود ہوتا جو بعض لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ موٹی موٹی بدیوں سے پر ہیز کرنا ہی کمال ہے تو انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا تعلیم نہ ہوتی جس کا انتہائی اور آخری مرتبہ اور مقام خدا تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا اتنا ہی تو کمال نہ تھا کہ وہ چوری چکاری نہ کیا کرتے تھے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت ، صدق ، وفا میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے ۔ پس اس دعا کی تعلیم سے یہ سکھا یا کہ نیکی اور انعام ایک الگ شے ہے۔ جب تک انسان اسے حاصل نہیں کرتا اس وقت تک وہ نیک اور صالح نہیں کہلا سکتا اور منعم علیہ کے زمرہ میں نہیں آتا۔ اس سے آگے فرمایا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة : ٧) اس مطلب کو قرآن شریف نے دوسرے مقام پر یوں فرمایا ہے کہ مومن کے نفس کی تکمیل دوشربتوں کے پینے سے ہوتی ہے ایک شربت کا نام کا فوری ہے اور دوسرے کا نام نجبیلی ہے۔ کا فوری شربت تو یہ ہے کہ اس کے پینے سے نفس بالکل ٹھنڈا ہو جاوے اور بدیوں ۔ لیے کسی قسم کی حرارت اس میں محسوس نہ ہو۔ جس طرح پر کافور میں یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ زہر یلے مواد کو دبا دیتا ہے اسی لیے اسے کافور کہتے ہیں۔ اسی طرح پر یہ کا فوری شربت گناہ اور بدی کی زہر کو دبا دیتا ہے اور وہ مواد ر د یہ جو اٹھ کر انسان کی روح کو ہلاک کرتے ہیں ان کو اٹھنے نہیں دیتا بلکہ بے اثر کر دیتا ہے۔ دوسرا شربت شربت زنجبیلی ہے جس کے ذریعہ سے انسان میں نیکیوں کے لیے ایک قوت اور طاقت آتی ہے اور پھر حرارت پیدا ہوتی ہے ۔ پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۲، ۳ کے