ملفوظات (جلد 7) — Page 54
ملفوظات حضرت مسیح موعود ولد جلد ہفتم اس سے ایسے اعمال وافعال سرزد ہوں جو بنی نوع کی بھلائی اور ہمدردی پر مشتمل ہوں اور ان کا نتیجہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے۔ میں اس بات کو بار بار کہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی اپنی ترقی اور کمال روحانی کی یہی انتہا نہ سمجھ لے کہ میں نے ترک بدی کی ہے۔ صرف ترک بدی نیکی کے کامل مفہوم اور منشا کو اپنے اندر نہیں رکھتی ۔ بار بار ایسا تصور کرنا کہ میں نے خون نہیں کیا خوبی کی بات نہیں کیونکہ خون کرنا ہر ایک شخص کا کام نہیں ہے۔ یا یہ کہنا کہ زنا نہیں کیا کیونکہ زنا کرنا تو کنجروں کا کام ہے نہ کہ کسی شریف انسان کا۔ ایسی بدیوں سے پر ہیز زیادہ سے زیادہ انسان کو بد معاشوں کا ذکر اللہ تعالیٰ کے طبقے سے خارج کر دے گا اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ مگر وہ جماعت ( جس کا ذکرال نے قرآن شریف میں کیا ہے کہ انہوں نے ایسے اعمال صالحہ کیے کہ خدا تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہو گئے ) صرف ترک بدی ہی سے نہ بنی تھی ۔ انہوں نے اپنی زندگیوں کو خدا کی رضا حاصل کرنے کے لیے بیچ سمجھا۔ خدا کی مخلوق کو نفع پہنچانے کے واسطے اپنے آرام و آسائش کو ترک کر دیا تب جا کر وہ ان مدارج اور مراتب پر پہنچے کہ آواز آگئی رضی اللہ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (البينة : ٩) - مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ کسب خیر تو بڑی بات ہے اور وہی اصل مقصد ہے، لیکن وہ تو ترک بدی میں بھی سست نظر آتے ہیں اور ان کاموں کا تو ذکر ہی کیا ہے جو صلحاء کے کام ہیں۔ وو پس تمہیں چاہیے کہ تم ایک ہی بات اپنے لیے کافی نہ سمجھ لو ۔ ہاں اول بدیوں سے پر ہیز کرو ل البدر میں ہے۔ ” جو شخص ان باتوں سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ کچھ بن گیا تو وہ سخت غلطی پر ہے کیونکہ جو چوری اور زنا نہیں کرتا تو آخر وہ ان کے برے انجام اور عذاب سے بھی تو محفوظ رہتا ہے۔ اس کا احسان کسی پر نہیں ۔ اگر کرتا تو دکھ پاتا۔ بد معاشوں میں لکھا جاتا۔ کنجر کہلاتا ۔ کیونکہ زنا کاری کنجروں کا کام ہے۔ اگر اس نے ان کاموں کو نہیں کیا، تو صرف اتنی بات ہوئی کہ بد معاشوں کے رجسٹر سے اس کا نام کٹ گیا لیکن نیکوں کے طبقے اور رجسٹر میں داخل بھی نہیں ہوا۔ اسی لیے خدا تعالیٰ نے عمل صالحہ کی تاکید کی ہے کہ اگر وہ بدی سے بچتا ہے تو عمل صالحہ کر کے نیکوں میں 66 داخل ہو ۔ ( البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه (۳)