ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 53

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۳ جلد ہفتم الصُّدِقِينَ (التوبة : ١١٩) یعنی صادقوں کے ساتھ رہو۔ صادقوں کی صحبت میں ایک خاص اثر ہوتا ہے۔ ان کا نور صدق و استقلال دوسروں پر اثر ڈالتا ہے اور ان کی کمزوریوں کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تین ذریعہ ہیں جو ایمان کو شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور اسے طاقت دیتے ہیں اور جب تک ان ذرائع سے انسان فائدہ نہیں اٹھا تا اس وقت تک اندیشہ رہتا ہے کہ شیطان اس پر حملہ کر کے اس کے متاع ایمان کو چھین نہ لے جاوے ۔ اسی لیے بہت بڑی ضرورت اس امر کی ہے کہ مضبوطی کے ساتھ اپنے قدم کو رکھا جاوے اور ہر طرح سے شیطانی حملوں سے احتیاط کی جاوے۔ جو شخص ان تینوں ہتھیاروں سے اپنے آپ کو مسلح نہیں کرتا ہے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کسی اتفاقی حملے سے نقصان اٹھا دے۔ دفع شر کے بعد کسب خیر اصل مقصد ہے لکھا جاتا ہے کہ ہدیاں چھوڑ دو اور نیکیاں بعد ہے لیکن یہ بات یاد رھو کہ کتابوں میں جب لکھا دو کرو تو بعض آدمی اتنا ہی سمجھ لیتے ہیں کہ نیکیوں کا کمال اسی قدر ہے کہ جو مشہور بدیاں ہیں مثلاً چوری ، زنا، غیبت ، بددیانتی، بد نظری وغیرہ ۔ موٹی موٹی بدیوں سے بچتے ہیں تو اپنے آپ کو سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم نے نیکی کے تمام مدارج حاصل کر لیے ہیں اور ہم بھی کچھ ہو گئے ہیں ۔ حالانکہ اگر غور کر کے دیکھا جاوے تو یہ کچھ بھی چیز نہیں ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو چوری نہیں کرتے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جوڈا کے نہیں مارتے یا خون نہیں کرتے یا بد نظری یا بدکاری کی بد عادتوں میں مبتلا نہیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اسے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ترک شرکیا ہے خواہ وہ عدم قدرت ہی کی وجہ سے ہو۔ قرآن شریف صرف اتنا ہی نہیں چاہتا کہ انسان ترک شرکر کے سمجھ لے کہ بس اب میں صاحب کمال ہو گیا، بلکہ وہ تو انسان کو اعلیٰ درجہ کے کمالات اور اخلاق فاضلہ سے متصف کرنا چاہتا ہے۔ اور (بقیہ حاشیہ ) کے ہر ایک خس و خاشاک کو محبت الہی کی آگ سے جلا کر نورالہی سے بھر دے۔“ البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه (۲)