ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 52

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲ جلد ہفتم ایک عیسائی جو خون مسیح پر ایمان لا کر سارے گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتا رہے؟ اور ایک ہندو جو یقین کرتا ہے کہ تو بہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکریں مارتا رہے گا ؟ وہ تو یقیناً سمجھتا ہے کہ کتے ، بلے، بندر، سور بننے سے چارہ ہی نہیں ہے۔ اس لیے یا درکھو کہ یہ اسلام کا فخر اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے اس میں کبھی سستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔ پھر دعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا زبردست ثبوت ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة: ۱۸۷) یعنی جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ خدا کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ تو کہہ دو کہ وہ بہت ہی قریب ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں۔ یہ جواب کبھی رویا صالحہ کے ذریعہ ملتا ہے اور کبھی کشف اور الہام کے واسطے سے۔ اور علاوہ بریں دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قادر ہے جبکہ مشکلات کو حل کر دیتا ہے۔ غرض دعا بڑی دولت اور طاقت ہے اور قرآن شریف میں جا بجا اس کی ترغیب دی ہے اور ایسے لوگوں کے حالات بھی بتائے ہیں جنہوں نے دعا کے ذریعہ اپنی مشکلات سے نجات پائی۔ انبیاء علیہم السلام کی زندگی کی جڑ اور ان کی کامیابیوں کا اصل اور سچا ذریعہ یہی دعا ہے۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعاؤں میں لگے رہو۔ دعاؤں کے ذریعہ سے ایسی تبدیلی ہو جائے گی جو خدا کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہو جاوے گا۔ تیسر اذریعہ صحبت صادقین تیرا پہلو سے جو قرآن سے ثابت ہے وہ محبت صادقین وو ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُونُوا مَعَ ل البدر سے ۔ تیسرا پہلو حصول نجات اور تقویٰ کا صادقوں کی معیت ہے جس کا حکم قرآن شریف میں ہے کُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) یعنی اکیلے نہ رہو کہ اس حالت میں شیطان کا داؤ انسان پر ہوتا ہے بلکہ صادقوں کی معیت اختیار کرو اور ان کی جمعیت میں رہوتا کہ ان کے انوار اور برکات کا پرتو تم پر پڑتا رہے۔ اور خانہ قلب