ملفوظات (جلد 7) — Page 51
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۱ جلد ہفتم جھکتی ہے۔ اس لیے اس کے بعد اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة : ٦) کی ہدایت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلیات اور رحمتوں کے ظہور کے لیے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے ۔ اس لیے اس پر ہمیشہ کمر بستہ رہو اور کبھی مت تھکو۔ غرض اصلاح نفس کے لیے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لیے نیکیوں کی توفیق پانے کے واسطے دوسرا پہلو دعا کا ہے۔ اس میں جس قدر توکل اور یقین اللہ تعالیٰ پر کرے گا۔ اور اس راہ میں نہ تھکنے والا قدم رکھے گا اسی قدر عمدہ نتائج اور ثمرات ملیں گے ۔ تمام مشکلات دور ہو جائیں گی اور دعا کرنے والا تقویٰ کے اعلیٰ محل پر پہنچ جاوے گا۔ یہ بالکل سچی بات ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہو سکتا ۔ نفسانی جذبات پر محض خدا تعالیٰ کے فضل اور جذبہ ہی سے موت آتی ہے اور یہ فضل اور جذ بہ دعا ہی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ طار ، اور یہ طاقت صرف دعاہی سے ملتی ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ مسلمانوں اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہی دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہیے۔ اور دوسرے مذاہب کے آگے تو دعا کے لیے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں ۔ ہے اور وہ توجہ نہیں کر سکتے ۔ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ وو البدر سے ۔ ان صفات کے بیان کے بعد دعا کی تحریک کی ہے کہ تو جو رب ، رحمان اور رحیم ہے میری مشکل کشائی فرما اور صراط مستقیم دکھا جو تو اپنے پیارے برگزیدوں کو دکھاتا رہا ہے۔ ہم تیری راہ بجز تیرے فضل کے نہیں پاسکتے ۔“ 66 البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه (۲) البدر میں یوں لکھا ہے ۔ ”دوسرے مسلمانوں کی طرح ہماری جماعت کو ہرگز دعا کی بے قدری نہ کرنی چاہیے اور ان تمام پتھروں کو راستہ میں سے دور کر دینا چاہیے جو کہ اس کی روک بنے ہوئے ہیں ۔ جیسے پانی کے آگے پتھر ہوں تو وہ رک جاتا ہے۔ ایسے ہی دوسرے لوگوں نے گندے پتھر دعا کی راہ میں ڈالے ہوئے ہیں اور وہ ان کی اپنی بدکاریاں اور بدعقید گیاں ہیں۔ لیکن تم لوگوں کو ان کی مثال نہ ہونا چاہیے۔ اور تمہارا کوئی کاروبار دعا کے سوا نہ ہوا کرے۔ چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے دعا کی عادت ڈالو اور اس سے غافل ہرگز نہ ہو۔عیسائیوں کی طرح ہرگزمت بنو کہ جنہوں نے کفارہ پر بھروسہ کر کے دعا کی ضرورت کو معدوم کر دیا ہے ۔“ البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه (۲)