ملفوظات (جلد 7) — Page 50
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد هفتم دیتی ہے اور نیکیوں پر استقامت اس کے ذریعہ سے آتی ہے۔ لے بڑا ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جس کو دعا پر ایمان ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کو دیکھتا ہے اور خدا تعالیٰ کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے کہ وہ قادر کریم خدا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شروع قرآن ہی میں دعا سکھائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بڑی عظیم الشان اور ضروری چیز ہے۔ اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة : ۲ تا ۴ ) اس میں اللہ تعالیٰ کی چار صفات کو جوائم الصفات ہیں بیان فرمایا ہے ۔ رَبِّ العلمين ظاہر کرتا ہے کہ وہ ذرہ ذرہ کی ربوبیت کر رہا ہے۔ عالم اسے کہتے ہیں جس کی خبر مل سکے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز دنیا میں ایسی نہیں ہے جس کی ربوبیت نہ کرتا ہو۔ ارواح اجسام وغیرہ سب کی ربوبیت کر رہا ہے۔ وہی ہے جو ہر ایک چیز کے حسب حال اس کی پرورش کرتا ہے جہاں جسم کی پرورش فرماتا ہے وہاں روح کی سیری اور تسلی کے لیے معارف اور حقائق وہی عطا فرماتا ہے۔ پھر فرمایا ہے کہ وہ رحمن ہے یعنی اعمال سے بھی پیشتر اس کی رحمتیں موجود ہیں ۔ پیدا ہونے سے پہلے ہی زمین، چاند، سورج، ہوا، پانی وغیرہ جس قدر اشیاء انسان کے لیے ضروری ہیں موجود ہوتی ہیں ۔ اور پھر وہ اللہ رحیم ہے یعنی کسی کے نیک اعمال کو ضائع نہیں کرتا بلکہ پاداش عمل دیتا ہے۔ پھر مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہے یعنی جزا وہی دیتا ہے اور وہی یوم الجزاء کا مالک ہے۔ اس قدر صفات اللہ کے بیان کے بعد دعا کی تحریک کی ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی ہستی اور ان صفات پر ایمان لاتا ہے تو خواہ مخواہ روح میں ایک جوش اور تحریک ہوتی ہے اور دعا کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف ل البدر سے ۔ ”انسان ہر وقت ایک سیلاب میں پڑا ہوا ہے۔ اور دعا ہی ایک ایسی شے ہے جو کہ اس سے اس کو نجات دلا سکتی ہے۔“ (البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه (۲)