ملفوظات (جلد 7) — Page 47
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷ جلد ہفتم اس سے بکلی بے بہرہ ہیں۔ مثلاً عیسائیوں نے جب یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک انسان ( جس کو انہوں نے خدا مان لیا ) نے ہمارے لیے قربانی دے دی ہے۔ انہوں نے اس پر بھروسہ کر لیا اور سمجھ لیا کہ ہمارے سارے گناہ اس نے اٹھا لیے ہیں۔ پھر وہ کون سا امر ہے جو اس کو دعا کے لیے تحریک کرے گا۔ نا ممکن ہے کہ وہ گدازش دل کے ساتھ دعا کرے۔ دعا تو وہ کرتا ہے جو اپنی ذمہ داری اور جوابدہی کو سمجھتا ہے لیکن جو شخص اپنے آپ کو بری الذمہ تصور کرتا ہے وہ دعا کیوں کرے گا۔ اس نے تو پہلے ہی سمجھ لیا ہے کہ گناہ دوسرے شخص نے اٹھا لیے ہیں اور اس طرح پر اس کے ذمہ کوئی جوابدہی نہیں تو اس کے دل میں تحریک کس طرح ہوگی ؟ اس نے اور شے پر بھروسہ کر لیا ہے اور اس طرح پر اس طریق سے جو دعا کا طریق ہے وہ دور چلا گیا ہے۔ غرض ایک عیسائی کے نزدیک دعا بالکل بے سود ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کر سکتا ۔ اس کے دل میں وہ رقت اور جوش جو دعا کے لئے حرکت پیدا کرتا ہے نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح پر ایک آریہ جو تناسخ کا قائل ہے اور سمجھتا ہے کہ تو بہ قبول ہی نہیں ہو سکتی اور کسی طرح پر اس کے گناہ معاف نہیں ہو سکتے وہ دعا کیوں کرے گا ؟ اس نے تو یہ یقین کیا ہوا ہے کہ جونوں کے چکر میں جانا ضروری ہے اور بیل ، گھوڑا ، گدھا ، گائے ، کتا، سؤ ر وغیرہ بننا ہے۔ وہ اس راہ کی طرف آتے ہی گا نہیں ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دعا اسلام کا خاص فخر ہے اور مسلمانوں کو اس پر بڑا ناز ہے ۔ مگر یہ یا درکھو کہ یہ دعا زبانی بک بک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے اور دعا کرنے والے کی روح پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الوہیت پر گرتی ہے اور اپنی کمزوریوں اور لغزشوں کے لیے قوی اور مقتدر خدا سے طاقت اور قوت اور مغفرت چاہتی ہے اور یہ وہ حالت ہے کہ دوسرے الفاظ میں اس کو موت کہہ سکتے ہیں۔ جب یہ حالت میسر آجاوے تو یقیناً سمجھو کہ باب اجابت اس کے لیے کھولا جاتا ہے اور خاص قوت اور فضل اور ل البدر سے۔ پس جسے کسی دوسری راہ پر بھروسہ ہے وہ دعا کی راہ پر کب آوے گا۔“ البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۲)