ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 46

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶ جلد ہفتم میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اس کا نفس امارہ خدا تعالیٰ کے نزدیک لوامہ ہو جاتا ہے اور ایسی قابلِ قدر تبدیلی پا لیتا ہے کہ یا تو وہ اتارہ تھا جو لعنت کے قابل تھا اور یا تدبیر اور تجویز کرنے سے وہی قابل لعنت نفس اتارہ لوامہ ہو جاتا ہے۔ جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اس کی قسم کھاتا ہے۔ لے یہ کوئی چھوٹا شرف نہیں ہے۔ پس حقیقی تقویٰ اور طہارت کے حاصل کرنے کے واسطے اوّل یہ ضروری شرط ہے کہ جہاں تک بس چلے اور ممکن ہو تد بیر کرو اور بدی سے بچنے کی کوشش کرو۔ بد عادتوں اور بد صحبتوں کو ترک کر دو۔ ان مقامات کو چھوڑ دو جو اس قسم کی تحریکوں کا موجب ہوسکیں ۔ جس قدر دنیا میں تدبیر کی راہ کھلی ہے اس قدر کوشش کرو اور اس سے نہ تھکو نہ ہٹو ۔ دوسرا طریق حقیقی پاکیزگی کے حاصل کرنے اور خاتمہ بالخیر کے لیے جو دوسرا ذریعہ دعا خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے کے وہ دعا ہے اس لیے جس قدر ہو سکے دعا کرو۔ یہ طریق بھی اعلیٰ درجہ کا مجرب اور مفید ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لكم (المؤمن : ۶۱ ) تم مجھ سے دعا کرو میں تمہارے لیے قبول کروں گا۔ دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کو فخر کرنا چاہیے۔ سے دوسری قوموں کو دعا کی کوئی قدر نہیں اور نہ انہیں اس پاک طریق پر کوئی فخر اور ناز ہو سکتا ہے۔ بلکہ یہ فخر اور ناز صرف صرف اسلام ہی کو ہے دوسرے مذاہب وو البدر سے۔ ” پہلے اتارہ تھا کہ سوائے بدی کے اور اسے کچھ سوجھتا ہی نہ تھا اور اب اس کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ کبھی غالب ہوتا ہے کبھی مغلوب ۔ ایک فعل بد کا ارتکاب کرتا ہے تو پھر اس پر پچھتاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کی تلافی کیونکر ہو اور چونکہ وہ ملامت کرتا ہے اس لیے اس کا نام لوامہ ہو جاتا ہے۔ خدا نے بھی اسی لیے اس کی قسم قرآن شریف میں کھائی ہے کیونکر یہ اپنی حالت سے خدا کی طرف ایک رجوع ظاہر کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے قرآن شریف میں کھائی۔ قریب ہو جاوے۔“ وو 66 رامہ ہو جاتا ہے۔ خدا البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۱۰) البدر سے ۔ جو کہ دراصل سب سے مقدم ہے اور جس کی تعلیم خدا تعالیٰ نے بھی دی ہے۔“ وو 66 البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) سے البدر سے ۔ ” دراصل بات یہ ہے کہ لوگ دعا کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور مسلمانوں نے بھی اس میں سخت ٹھو کر 66 کھائی ہے کہ دعا جیسی شے کو ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے ہیں ۔ (البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۱۰)