ملفوظات (جلد 7) — Page 48
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٧ جلد ہفتم استقامت بدیوں سے بچنے اور نیکیوں پر استقلال کے لیے عطا ہوتی ہے یہ ذریعہ سب سے بڑھ کر زبردست ہے۔ اس زمانہ کے لوگ دعا کی تاثیرات کے منکر ہو گئے ہیں مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ دعا کی حقیقت اور حالت سے محض نا واقف ہیں اور اسی وجہ سے اس زمانہ میں بہت سے لوگ اس سے منکر ہو گئے ہیں کیونکہ وہ ان تا ثیرات کو نہیں پاتے اور منکر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے۔ پھر دعا کی کیا حاجت ہے؟ مگر میں خوب جانتا ہوں کہ یہ تو نرا بہانہ ہے انہیں چونکہ دعا کا تجربہ نہیں اس کی لے تاثیرات پر اطلاع نہیں اس لیے اس طرح کہہ دیتے ہیں۔ ورنہ اگر وہ ایسے ہی متوکل ہیں تو پھر بیمار ہو کر علاج کیوں کرتے ہیں؟ خطرناک امراض میں مبتلا ہوتے ہیں تو طبیب کی طرف دوڑے جاتے ہیں ۔ بلکہ میں سچ کہتا ہوں کہ سب سے زیادہ چارہ کرنے والے یہی ہوتے ہیں ۔ سید احمد خاں بھی دعا کے منکر تھے۔ لیکن جب ان کا پیشاب بند ہوا تو دہلی سے معالج ڈاکٹر کو بلا یا یہ نہ سمجھ لیا کہ خود بخود ہی پیشاب کھل جاوے گا۔ حالانکہ وہی خدا ہے جس کے ملکوت میں ظاہری دنیا ہے۔ جبکہ دوسری اشیاء میں تاثیرات موجود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ باطنی دنیا میں تاثیرات نہ ہوں۔ کے جن میں سے دعا ایک زبردست چیز ہے۔ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قضاء وقدر میں سب کچھ ہے مگر کوئی یہ تو بتائے کہ خدا تعالیٰ نے وہ فہرست کس کو دی ہے جس سے معلوم ہو جاوے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ان اسرار پر کوئی فتح نہیں پاسکتا۔ ظاہر میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص قبض سے بیمار ہے تو تر بد یا کسٹرائل جب اس کو دیا جاوے گا تو اسے اسہال آجاویں گے اور قبض کھل جائے گی ۔ کیا یہ اس امر کا بین ثبوت نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے تاثیرات رکھی ہوئی ہیں۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۲، ۳ البدر سے ۔ ایک پہلو میں اس کی قدرت کے تصرفات مانتے ہیں اور دوسرے میں جا کر انکار کرتے ہیں ۔“ البدر جلد ۴ نمبر ۲ کالم اول مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه (۲)