ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 45

ملفوظات حضرت مسیح موعود لده کرنا عقلمند کا کام ہے اور عقل اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دی ہے ۔ جلد ہفتم اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے (جیسا کہ میں پہلے کئی مرتبہ بیان پہلا ذریعہ تدبیر کر چکا ہوں ) اول ضروری ہے کہ انسان دیدہ دانستہ اپنے آپ کو گناہ کے گڑھے میں نہ ڈالے ورنہ وہ ضرور ہلاک ہوگا۔ جو شخص دیدہ دانستہ بد راہ اختیار کرتا ہے یا کنوئیں میں گرتا ہے اور زہر کھاتا ہے وہ یقیناً ہلاک ہوگا۔ ایسا شخص نہ دنیا کے نزدیک اور نہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل رحم ٹھہر سکتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری اور بہت ضروری ہے خصوصاً ہماری جماعت کے لیے ( جس کو اللہ تعالی نمونہ کے طور پر انتخاب کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک نمونہ ٹھہرے) کہ جہاں تک ممکن ہے بد صحبتوں اور بد عادتوں سے پر ہیز کریں۔ ہے اور اپنے آپ کو نیکی کی طرف لگائیں ۔ اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے جہاں تک تدبیر کا حق ہے تدبیر کرنی چاہیے اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہیے۔ و۔ یاد رکھو تد بیر بھی ایک مخفی عبادت ہے اس کو حقیر مت سمجھو۔ اسی سے وہ راہ کھل جاتی ہے جو بدیوں سے نجات پانے کی راہ ہے۔ جو لوگ بدیوں سے بچنے کی تجویز اور تدبیر نہیں کرتے ہیں وہ گویا بدیوں پر راضی ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر خدا تعالیٰ ان سے الگ ہو جاتا ہے۔ سے میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان نفس اتارہ کے پنجہ میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی تدبیروں لے البدر میں ہے۔ عقلمند انسان کا یہ کام ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ اس زمانہ کے مفاسد پر غور کرے اور عقل اس لیے اسے دی گئی ہے کہ وہ اس طوفانِ عظیم سے جو کہ لوگوں کی روحانیت کو تباہ کر رہا ہے اپنے آپ کو بچاوے۔“ البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) ہلے البدر سے ۔ اس قسم کی مجلسوں اور صحبتوں اور رفیقوں اور دوستوں سے پر ہیز کرے جو کہ اس کی روحانیت ہے برا اثر ڈالتے ہیں ۔“ پر البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۱۰) سے البدر سے ۔ ” تقویٰ اور نیکی کے حصول کے لیے تدابیر کی جستجو میں لگے رہنا یہ بھی ایک عبادت ہے اور جب انسان اس کوشش میں لگا رہتا ہے تو عادت اللہ یہی ہے کہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی راہ کھول دی جاتی ہے۔ لیکن جو شخص بدی سے بچنے کی اور نیکی کو عمل میں لانے کی تدبیر نہیں کرتا۔ سمجھو کہ وہ بدی پر راضی ہو گیا ہے اور ایسے آدمی البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) سے بدی کا چھوڑ نا محال ہو جاتا ہے۔“ 66