ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 44

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴ جلد هفتم میں اس زمانہ کے لیے سعی کرتے ہیں۔ اور اس زمانہ میں ان کے لیے وہی تقویٰ اور خدا کی بندگی لکھی جاتی ہے۔ غرض آخر وہی ایک زمانہ جو جوانی کے جذبات اور نفس امارہ کی شوخیوں کا زمانہ ہے کچھ کام کرنے کا زمانہ رہ جاتا ہے۔ اس لیے اب سوچنا چاہیے کہ وہ کیا طریق ہے جس کو اختیار کر کے انسان کچھ آخرت کے لیے کما سکے؟ خاتمہ بالخیر کے حصول کے تین ذرائع اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زمانہ جو شباب اور جوانی کا زمانہ ہے ایک ایسا زمانہ ہے کہ نفس اتارہ نے اس کو رڈی کیا ہوا ہے لیکن اگر کوئی کار آمد ایام ہیں تو یہی ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی زبانی قرآن شریف میں درج ہے مَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ ربي (يوسف:۵۴) یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہر اسکتا کیونکہ نفس امارہ بدی کی طرف تحریک کرتا ہے۔ اس کی اس قسم کی تحریکوں سے وہی پاک ہو سکتا ہے جس پر میرا رب رحم کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ کی بدیوں اور جذبات سے بچنے کے واسطے نری کوشش ہی شرط نہیں بلکہ دعاؤں کی بہت بڑی ضرورت ہے نراز ہر ظاہری ہی ( جو انسان اپنی سعی اور کوشش سے کرتا ہے ) کارآمد نہیں ہوتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم ساتھ نہ ہو اور اصل تو یہ ہے کہ اصل زہد اور تقویٰ تو ہے ہی وہی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے ۔ حقیقی پاکیزگی اور حقیقی تقوی اسی طرح ملتا ہے۔ ورنہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ بہت سے جامے بالکل سفید ہوتے ہیں اور باوجود سفید ہونے کے بھی وہ پلید ہو سکتے ہیں تو اس ظاہری تقوے اور طہارت کی ایسی ہی مثال ہے۔ لے تا ہم اس حقیقی پاکیزگی اور حقیقی تقوے اور طہارت کے حصول کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی زمانہ شباب و جوانی میں انسان کوشش کرے جبکہ قومی میں قوت اور طاقت اور دل میں ایک امنگ اور جوش ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں کوشش وو البدر میں ہے۔ ہر ایک چیز کا ایک ظاہر ہوتا ہے ایسے ہی زہد اور تقویٰ کا بھی ایک ظاہر ہوتا ہے اور اکثر لوگ بظاہر متقی اور زاہد ہوتے ہیں لیکن جب تک خدا کا فضل اور رحم بھی انسان کے شامل حال نہ ہو تب تک وہ اس کے کام نہیں آسکتا ۔ ( البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۰)