ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 43

ملفوظات حضرت مسیح موعود لدالله جلد ہفتم رکھنا چاہتا ہے۔ یہی زمانہ ہے جو مؤاخذہ کا زمانہ ہے اور خاتمہ بالخیر کے لیے کچھ کرنے کے دن بھی یہی ہیں لیکن ایسی آفتوں میں گھرا ہوا ہے کہ اگر بڑی سعی نہ کی جاوے تو یہی زمانہ ہے جو جہنم میں لے جائے گا اور شقی بنا دے گا۔ ہاں اگر عمدگی اور ہوشیاری اور پوری احتیاط کے ساتھ اس زمانہ کو بسر کیا جاوے تو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے امید ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے کیونکہ ابتدائی زمانہ تو بے خبری اور غفلت کا زمانہ ہے اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ نہ کرے گا۔ جیسا کہ خود اس نے فرمایا لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ: ۲۸۷) اور آخری زمانہ میں گو بڑھاپے کی وجہ سے سستی اور کاہلی ہوگی لیکن فرشتے اس وقت اس کے اعمال میں وہی لکھیں گے جو جوانی کے جذبات اور خیالات ہیں ۔ جوانی میں اگر نیکیوں کی طرف مستعد اور خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والا اس کے احکام کی تعمیل کرنے والا اور نواہی سے بچنے والا ہے تو بڑھاپے میں گوان اعمال کی بجا آوری میں کسی قدر سستی بھی ہو جاوے لیکن اللہ تعالیٰ اسے معذور سمجھ کر ویسا ہی اجر دیتا ہے۔ ہر شخص بڑھے انسان کو دیکھتا کہ وہ کیسا از خود رفتگی کا زمانہ ہے۔ کے کوئی بات چشم دید کی طرف سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ اس لیے ان لوگوں پر خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہوتا ہے جو ابتدائی زمانہ ل البدر سے ۔ اگر اس نے یہ زمانہ خدا کی بندگی ، اپنے نفس کی آراستگی اور خدا کی اطاعت میں گذارا ہوگا تو اس کا اسے یہ پھل ملے گا کہ پیرانہ سالی میں جبکہ وہ کسی قسم کی عبادت وغیرہ کرنے کے قابل نہ رہے گا اور کسل اور کاہلی اسے لاحق حال ہو جاوے گی تو فرشتے اس کے نامہ اعمال میں وہی نماز ، روزہ ، تہجد وغیرہ لکھتے رہیں گے جو کہ وہ جوانی کے ایام میں بجالاتا تھا اور یہ خدا کا فضل ہوتا ہے کہ اس کی ذات پاک اپنے بندہ کو معذور جان کر باوجوداس کے کہ وہ عمل بجا نہیں لاتا پھر بھی وہی اعمال اس کے نام درج ہوتے رہتے ہیں ۔“ و البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) ہے البدر سے ۔ بوڑھوں کا دنیا میں موجود ہونا جوانوں کے لیے عبرت کا مقام ہے مگر انسان کے دل پر اس قسم کا حجاب ہوتا ہے کہ وہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا ورنہ اسی قسم کے نظاروں کو دیکھ کر وہ اپنی جوانی کے ایام میں خدا تعالیٰ سے اپنے تعلقات مضبوط کرے۔“ البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۱۰)