ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 42

ملفوظات حضرت مسیح موعود لدا جلد ہفتم میں اس کے معلومات بڑھتے ہیں اور اس کی خواہشوں کا حلقہ وسیع ہوتا ہے، مگر جوانی کی مستی اور نفس امارہ کے جذبات عقل مار دیتے ہیں اور ایسے مشکلات میں پھنس جاتا ہے اور ایسے ایسے حالات پیش آتے ہیں کہ اگر ایمان بھی لاتا ہے تب بھی نفس امارہ اور اس کے جذبات اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اسے ایمان اور اس کی ثمرات سے دور پھینک دینے کے لیے حملے کرتے ہیں ۔ اس کے بعد جو پیرانہ سالی کا زمانہ ہے وہ تو بجائے خود ایسا نکما اور رڈی ہوتا ہے جیسے کسی چیز سے عرق نکال لیا جاوے اور اس کا پھوک باقی رہ جاوے۔ اسی طرح پر انسانی عمر کا پھوک بڑھاپا ہے۔ انسان اس وقت نہ دنیا پر کے لائق رہتا ہے اور نہ دین کے مخبوط الحواس اور مضمحل سا ہو کر اوقات بسر کرتا ہے۔ قوئی میں وہ تیزی اور حرکت نہیں ہوتی جو جوانی میں ہوتی ہے اور بچپن کے زمانہ سے بھی گیا گذرا ہو جاتا ہے۔ بچپن میں اگر چہ شوخی ، حرکت اور نشو ونما ہوتا ہے لیکن بڑھاپے میں یہ باتیں نہیں ۔ نشو ونما کی بجائے اب قوئی میں تحلیل ہوتی ہے اور کمزوری کی وجہ سے سستی اور کاہلی پیدا ہونے لگتی ہے۔ بچہ اگرچہ نماز اور اس کے مراتب اور ثمرات اور فوائد سے ناواقف ہوگا یا ہوتا ہے لیکن اپنے کسی عزیز کو دیکھ کر ریس اور امنگ ہی پیدا ہو جاتی ہے مگر اس پیرانہ سالی کے زمانہ میں تو اس کے بھی قابل نہیں رہتا ۔ اے حواس باطنی میں جس طرح اس وقت فرق آجاتا ہے حواس ظاہری میں بھی معمر ہو کر بہت کچھ فتور پیدا ہو جاتا ہے بعض اندھے ہو جاتے ہیں ، بہرہ ہو جاتے ہیں، چلنے پھرنے سے عاری ہو جاتے ہیں اور قسم قسم کی مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ غرض یہ زمانہ بھی بڑا ہی رڈی زمانہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی زمانہ ہے جو ان دونوں کے بیچ کا زمانہ ہے یعنی شباب کا جب انسان کوئی کام کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس وقت قوئی میں نشو و نما ہوتا ہے اور طاقتیں آتی ہیں لیکن یہی زمانہ ہے جبکہ نفس امارہ ساتھ ہوتا ہے اور وہ اس پر مختلف رنگوں میں حملے کرتا ہے اور اپنے زیر اثر ل البدر سے۔ مگر پیرانہ سالی میں کسل اور کاہلی اس کے لاحق حال ہو جاتے ہیں۔ جہاں پڑا وہیں پڑا رہتا ہے۔ جہاں بیٹھا وہیں بیٹھا رہتا ہے ۔ ( البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۰)