ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 39

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰ دسمبر ۱۹۰۴ء (بوقت ظهر ) ۳۹ اپنے نیک انجام پر پختہ یقین فرمایا کہ پختہ یقین ظہر کے وقت حضرت اقدس تشریف لائے ۔ مقدمہ کے ذکر پر که خواہ کچھ ہی ہو ہم تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں اور اس پر راضی ہیں ۔ ع هرچه از دوست می رسد نیکوست جلد ہفتم لیکن ہمارا ایمان جیسے خدا تعالیٰ کے ملائکہ اور کتب اور رسل پر ہے ایسے ہی اس بات پر بھی ہے کہ انجام کا رہم ہی کامیاب ہوں گے۔ اگر چہ ایک دنیا ہماری مخالف کیوں نہ ہو۔ آج کل کے عقلمندوں کے نزدیک تو کسی کو اپنا دشمن بنانا غلطی ہے۔ لیکن سچ پوچھو تو یہ بھی حقانیت کی ایک دلیل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک سے بھی نہ رکھی سب سے بگاڑ لی ۔ ان لوگوں کے نزدیک تو نعوذ باللہ آپ نے غلطی کی حالانکہ محض خدا کے لیے سب سے بگاڑ لینا آپ کی صداقت کا بین ثبوت ہے کہ جس سے آپ کی قوت ایمانی کا حال معلوم ہوتا ہے۔ ایک طرف مسیح کو دیکھو کہ اس کی تعلیم سے جو کہ انجیلوں میں پائی جاتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مشرب کسی کو ناراض کرنے کا ہرگز نہ تھا۔ یہودیوں کو سنایا گیا کہ میں توریت کا ایک شوشہ تک زیر و زبر کرنے نہیں آیا۔ اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ ان کی خوشامد مد نظر تھی ۔ برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو دیکھا جاوے تو کوئی بھی فرقہ اور مذہب روئے زمین پر ایسا نظر نہ آوے گا جس کو آپ نے دعوت نہ کی ہو اور جس کی غلطی نہ نکالی ہو ( اور پھر ہر ایک کے مقابلہ پر اپنے مظفر ومنصور ہونے کا دعوی بھی کیا ) بھلا بتلاؤ کہ جب تک خدا پر پورا بھروسہ اور یقین نہ ہو کب کوئی اس طرح سے کر سکتا ہے؟ خیر بات یہ ہے کہ درمیان میں کیا کیا مکروہات ہوں ہمیں اس کا علم نہیں مگر انجام بہر حال نیک ہے ۔ الہاموں کی ترتیب میں میں یہ امر مد نظر رکھتا ہوں کہ مکروہات کا مرتبہ اول رکھا جاتا ہے اور یہ