ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 38

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸ جلد ہفتم میرے دوست مفتی محمد صادق روایت کرتے ہیں کہ ایک بار میاں کرم داد صاحب نجات فضل سے ہے احمدی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ماہ رمضان میں حکم دیا کہ مفتی صاحب کے ہمراہ بٹالہ تک جاویں اور تاکید کی کہ روزہ نہ رکھنا۔ کرم داد نے خواہش ظاہر کی کہ روزہ رکھ لیا جاوے بعد کو تکلیف ہوتی ہے۔ فرمایا۔ نجات خدا کے فضل سے ہے عمل سے نہیں ہے ۔ لے ۱۹ دسمبر ۱۹۰۴ء بوقت ظهر ) حضرت اقدس بوقت ظہر تشریف لائے اور مولانا حکیم مریدان با صفا کی خاطر داری نورالدین صاحب کی علامت طبع کا حال خود ان سے دریافت کیا۔ غذا کے انتظام کے لیے تاکید فرمائی ۔ حضرت مولوی صاحب نے عرض کی کہ ہر چند کوشش کی جاتی ہے مگر قدرت کی طرف سے کچھ ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں کہ جس سے انتظام قائم نہیں رہتا۔ شاید ا رادہ الہی ابھی اس امر کا خواہاں نہیں ہے کہ آرام ہو۔ اس اثناء میں ایک صاحب جن کو حکیم صاحب موصوف سے نہایت محبت اور اخلاص اور نیاز مندی کا تعلق ہے بول اٹھے کہ آخر تد بیر کرنی چاہیے۔ قرآن شریف میں آیا ہے فَالْمُدَبِرَاتِ اَمْرًا ( النزعت : ۶) اس پر حکیم صاحب نے ایک لطیف عارفانہ جواب یہ دیا کہ یہاں صیغہ مؤنث کا استعمال ہوا ہے فَالْمُدَبِرُونَ اَمْرًا نہیں ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ اس کا بڑا تعلق اناث سے ہے ( اور ان میں ضرور نقص ہوتا ہے ) بہر حال یہ ایک عجیب نکتہ ہے۔ اس بحث کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دلچسپی سے سنا اور پھر خوراک کا انتظام ایک خاص صاحب کے سپر دفرما کر زبان مبارک سے ارشاد فرمایا کہ یہ سب لوگ سنتے ہیں اور گواہ ہیں کہ ہم نے اب تم کو ذمہ وار بنا دیا ہے۔ اب اس کا ثواب یا عذاب تمہاری گردن پر ہے۔ کے البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۵ البدر جلد ۴ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۳