ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 281

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۱ جلد ہفتم فتور آ جاتا ہے پھر بعلت اس فتور کے انسان نہیں سمجھ سکتا کہ میں خواب میں ہوں یا بیداری میں لیکن ایک اور حالت ہوتی ہے کہ جس سے ارباب طلب اور اصحاب سلوک کبھی کبھی مستمتع اور محظوظ ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ باعث دوام مراقبہ و حضور و استیلاء شوق و غلبہ محبت ایک حالت غیبت حواس ان پر وارد ہو جاتی ہے جس کا یہ باعث نہیں ہوتا کہ دماغ پر رطوبت مستولی ہو بلکہ اس کا باعث صرف ذکر اور شہود کا استیلاء ہوتا ہے۔ اس حالت میں چونکہ تعطل حواس بہت کم ہوتا ہے ۔ اس جہت سے انسان اس بات پر متنبہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر بیدار ہے خواب میں نہیں اور نیز اپنے مکان اور اس کے تمام وضع پر بھی اطلاع رکھتا ہے۔ یعنی جس مکان میں ہے اس مکان کو برا بر شناخت کرتا ہے۔ حتی کہ لوگوں کی آواز بھی سنتا ہے اور کل مکان کو بچشم خود دیکھتا ہے۔ صرف کسی قدر بجذ بہ غیبی غیبت حس ہوتی ہے اور جو انسان خواب کی حالت میں اپنی رویا میں اپنے تئیں بیدار معلوم کرتا ہے ۔ یہ علم بذریعہ حواس نہیں بلکہ اس علم کا منشا فقط روح ہے۔ دوسرا سوال آپ کا یہ ہے کہ فناء اتم أغْنِی غَايَةُ الْمَوَاجِ وَ نَهَايَةُ الْوِصالِ میں علم حق رہتا ہے یا نہیں ۔ اول سمجھنا چاہیے کہ فناء اتم عین وصال کا نام نہیں بلکہ امارات اور آثار وصال میں سے ہے کیونکہ فناء اتم مراد اس حالت سے ہے کہ طالب حق خلق اور ارادت اور نفس سے بکلی باہر ہو جاوے اور فعل اور ارادت الہی میں بکلی کھویا جاوے۔ یہاں تک کہ اسی کے ساتھ دیکھتا ہو اور اسی کے ساتھ سنتا ہو اور اسی کے ساتھ پکڑتا ہو اور اسی کے ساتھ چھوڑتا ہو۔ پس یہ تمام آثار وصال کے ہیں نہ عین وصال کے اور عین وصال ایک بیچوں اور بیچگوں نور ہے کہ جس کو اہل وصال شناخت کرتے ہیں مگر بیان نہیں کر سکتے ۔ خلاصہ کلام یہ کہ جب طالب کمال وصال کا خدا کے لیے اپنے تمام وجود سے الگ ہو جاتا ہے اور کوئی حرکت اور سکون اس کا اپنے لیے نہیں رہتا بلکہ سب کچھ خدا کے لیے ہو جاتا ہے تو اس حالت میں اس کو ایک روحانی موت پیش آتی ہے جو بقا کو مستلزم ہے۔ پس اس حالت میں گویا وہ بعد موت کے زندہ کیا جاتا ہے اور غیر اللہ کا وجود اس کی آنکھ میں باقی نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ غلبہ شہود ہستی الہی سے وہ اپنے وجود کو بھی نابود ہی خیال کرتا ہے ۔ پس یہ مقام عبودیت وفناء اتم ہے جو