ملفوظات (جلد 7) — Page 282
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۲ جلد ہفتم غایت سیر اولیاء ہے اور اسی مقام میں غیب سے باذن اللہ ایک نورسالک کے قلب پر نازل ہوتا ہے جو تقریر اور تحریر سے باہر ہے۔ غلبہ شہود کی ایک ایسی حالت ہے کہ جو علم الیقین اور عین الیقین کے مرتبہ سے برتر ہے۔ صاحب شہود تام کو ایک علم تو ہے مگر ایسا علم جو اپنے ہی نفس پر وارد ہو گیا ہے جیسے کوئی آگ میں جل رہا ہے۔ سو اگر چہ وہ بھی جلنے کا ایک علم رکھتا ہے مگر وہ علم الیقین اور عین الیقین سے برتر ہے۔ کبھی شہود تام بے خبری تک بھی نوبت پہنچا دیتا اور حالت سکر اور بیہوشی کی غلبہ کرتی ہے۔ اس حالت سے یہ آیت مشابہ ہے فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا وَ خَرَّ مُوسَى صَعِقًا (الاعراف: ۱۴۴) لیکن حالت تام وہ ہے جس کی طرف اشارہ ہے مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى (النجم : ۱۸) یہ حالت اہل جنت کے نصیب ہوگی ۔ پس غایت یہی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرمایا ہے وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (القيامة : ۲۳، ۲۴)۔ واللہ اعلم بالصواب خاکسار مرزاغلام احمد - ۱۸ مارچ ۱۸۸۳ ء مطابق ۱۸ جمادی الاول ۱۳۰۰ھ ۲۶ ستمبر ۱۹۰۵ء ( قبل دو پہر) یہاں رہیں اور ان ایام کی قدر کریں یہ بھی قیمت ہے کہ انسان اس جگہ کی صحبت کو ول غنیمت سمجھے جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہاں آنے یا رہنے سے دنیاوی کاروبار میں ہرج ہو گا وہ بیمار ہے اسے اس بیماری کا علاج کرنا چاہیے۔ دنیا کے کام تو کبھی ختم نہیں ہوتے اور نہ ہو سکتے ہیں جب تک خود انسان خدا سے توفیق پا کر ان کا خاتمہ نہ کردے۔ ابھی ہماری جماعت کو سمجھنے کے لیے بہت سی باتیں ہیں۔ رفتہ رفتہ تحریک ہوتی ہے کسی مجمع میں کوئی تحریک ہو گئی اور کسی میں کوئی ۔ اس لیے جب تک یہاں انسان ایک عرصہ تک نہ رہے یا کثرت الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۷، ۸