ملفوظات (جلد 7) — Page 280
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۰ جلد ہفتم بات کے لیے کہ مضمون خواب حیز قوت سے حد فعل میں آوے بہت سی محنتیں درکار ہیں۔ خواب کے واقعات اس پانی سے مشابہ ہیں کہ جو ہزاروں من مٹی کے نیچے زمین کی تہہ تک میں واقع ہے جس کے وجود میں تو کچھ شک نہیں لیکن بہت سی جانکنی اور محنت چاہیے تا وہ مٹی پانی کے اوپر سے بکلی دور ہو جائے اور نیچے سے پانی شیریں اور مصفا نکل آوے۔ ہمت مرداں مدد خدا۔ صدق اور وفا سے خدا کو طلب کرنا موجب فتح یابی ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : ٧٠) ۔ گویند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود و لیک بخون جگر شود گرچه وصالش نه بگوشش دهند ہر قدر اے دل کہ توانی بکوش آپ کی ملاقات کے لیے میں بھی چاہتا ہوں مگر وقت مناسب کا منتظر ہوں ۔ بے وقت حج بھی فائدہ نہیں کرتا۔ اکثر حاجی جو بڑی خوشی سے حج کرنے کو جاتے ہیں اور پھر دل سخت ہو کر آتے ہیں اس کا یہی باعث ہے کہ انہوں نے بے وقت بیت اللہ کی زیارت کی اور بجز ایک کوٹھہ کے اور کچھ نہ دیکھا اور اکثر مجاورین کو صدق اور صلاح پر نہ پایا۔ دل سخت ہو گیا۔ علیٰ ہذا القیاس ملاقات جسمانی سے بھی کئی ایک قسم کے ابتلا پیش آجاتے ہیں ۔ الا ماشاء الله - آپ کے سوالات کا جواب جو اس وقت میرے خیال میں آتا ہے مختصر طور پر عرض کیا جاتا ہے۔ آپ نے پہلے یہ سوال کیا ہے کہ پورا پورا علم جیسا بیداری میں ہوتا ہے خواب میں کیوں نہیں ہوتا حالت کا اور خواب کا دیکھنے والا اپنی خواب کو خواب کیوں نہیں سمجھتا ؟ سو آپ پر واضح ہو کہ خواب اس حالا نام ہے کہ جب بباعث غلبہ رطوبت مزاجی کے جو دماغ پر طاری ہوتی ہے حواس ظاہری و باطنی اپنے کاروبار معمولی سے معطل ہو جاتے ہیں۔ پس جب خواب کو تعطل حواس لازم ہے تو نا چار جو علم اور امتیاز اور تحقظ بذریعہ حواس انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ حالت خواب میں بباعث تعطل حواس نہیں رہتا کیونکہ جب حواس بوجہ غلبہ رطوبت مزاجی معطل ہو جاتے ہیں تو بالضرورت اس فعل میں بھی