ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 13

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳ جلد هفتم بلکہ امداد الہی کی سخت ضرورت ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سبلنا (العنكبوت: ۷۰) کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں ہماری راہ میں انجام کار راہنمائی پر پہنچ جاتے ہیں۔ جس طرح وہ دانہ تخم ریزی کا بدوں کوشش اور آبپاشی کے بے برکت رہتا بلکہ خود بھی فنا ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح تم بھی اس اقرار کو ہر روز یاد نہ کرو گے اور دعائیں نہ مانگو گے کہ خدایا ! ہماری مدد کر تو فضل الہی وارد نہیں ہوگا اور بغیر امداد الہی کے تبدیلی ناممکن ہے۔ چور، بدمعاش، زانی وغیرہ جرائم پیشہ لوگ ہر وقت ایسے نہیں رہتے بلکہ بعض وقت ان کو ضرور پشیمانی ہوتی ہے ۔ یہی حال ہر بدکار کا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان میں نیکی کا خیال ضرور ہے۔ پس اس خیال کے واسطے اس کو امداد الہی کی بہت ضرورت ہے۔ اسی لیے پنجوقتہ نماز میں سورۂ فاتحہ کے پڑھنے کا حکم دیا۔ اس میں إِيَّاكَ نَعْبُدُ فرمایا اور پھر إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی عبادت بھی تیری ہی کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔ اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی ہر نیک کام میں قومی، تدابیر، جدوجہد سے کام لیں یہ اشارہ ہے نعبد کی طرف۔ کیونکہ جو شخص نری دعا کرتا اور جد و جہد نہیں کرتا وہ بہرہ یاب نہیں ہوتا۔ جیسے کسان بیج بو کر اگر جد و جہد نہ کرے تو پھل کا امیدوار کیسے بن سکتا ہے۔ اور یہ سنت اللہ ہے۔ اگر بیج بو کر صرف دعا کرتے ہیں تو ضرور محروم رہیں گے۔ مثلاً دو کسان ہیں ایک تو سخت محنت اور کلبہ رانی کرتا ہے یہ تو ضرور زیادہ کامیاب ہوگا ۔ دوسرا کسان محنت نہیں کرتا یا کم کرتا ہے اس کی پیداوار ہمیشہ ناقص رہے گی جس سے وہ شاید سرکاری محصول بھی ادا نہ کر سکے اور وہ ہمیشہ مفلس رہے گا۔ اسی طرح دینی کام بھی ہیں۔ انہیں میں منافق ، انہیں میں لکھے ، انہیں میں صالح ، انہیں میں ابدال، قطب ، غوث بنتے ہیں ۔ اور خدا کے نزدیک درجہ پاتے ہیں ۔ اور بعض چالیس چالیس برس سے نماز پڑھتے مگر ہنوز روز اول ہی ہے اور کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ۔ تیس روزوں سے کوئی فائدہ محسوس نہیں کرتے ۔ بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہم بڑے متقی اور مدت کے نماز خواں ہیں مگر ہمیں امداد الہی نہیں ملتی ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ رسمی اور تقلیدی عبادات کرتے ہیں ترقی کا کبھی خیال نہیں ، گناہوں کی جستجو ہی نہیں، سچی توبہ کی طلب ہی نہیں ۔ پس وہ پہلے قدم پر ہی رہتے ہیں ۔ ایسے انسان بہائم سے کم