ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 14

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴ جلد ہفتم نہیں۔ ایسی نمازیں خدا کی طرف سے ویل لاتی ہیں ۔ نماز تو وہ ہے جو اپنے ساتھ ترقی لے آوے ۔ جیسے طبیب کے زیر علاج ایک بیمار ہے ایک نسخہ وہ دس روز استعمال کرتا ہے پر اس سے اس کو روز بروز نقصان ہو رہا ہے۔ جب اتنے دنوں کے بعد فائدہ نہ ہو تو بیمار کو شک پڑ جاتا ہے کہ یہ نسخہ ضرور میرے مزاج کے موافق نہیں اور بدلنا چاہیے۔ پس رسم اور رسمی عبادت ٹھیک نہیں ۔ دعاؤں کی اہمیت نمازوں میں دعا ئیں اور درود ہیں یہ عربی زبان میں ہیں۔ مگر تم پر حرام نہیں کہ نمازوں میں اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگا کرو۔ ورنہ ترقی نہ ہوگی ۔ خدا کا حکم ہے کہ نماز وہ ہے جس میں تضرع اور حضور قلب ہو ایسے ہی لوگوں کے گناہ دور ہوتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ (هود: ۱۱۵) یعنی نیکیاں بدیوں کو دور کرتی ہیں۔ یہاں حسنات کے معنے نماز کے ہیں ۔ اور حضور اور تضرع اپنی زبان میں مانگنے سے حاصل ہوتا ہے ۔ پس کبھی کبھی ضرور اپنی زبان میں دعا کیا کرو اور بہترین دعا فاتحہ ہے کیونکہ وہ جامع دعا ہے جب زمیندار کو زمینداری کا ڈھب آجاوے گا تو وہ زمینداری کے صراط مستقیم پر پہنچ جاوے گا اور کامیاب ہو جاوے گا۔ اسی طرح تم خدا کے ملنے کی صراط مستقیم تلاش کرو اور دعا کرو کہ یا الہی میں ایک تیرا گنہگار بندہ ہوں اور افتادہ ہوں میری راہنمائی کر ۔ ادنی اور اعلیٰ سب حاجتیں بغیر شرم کے خدا سے مانگو کہ اصل معطی وہی ہے۔ بہت نیک وہی ہے جو بہت دعا کرتا ہے کیونکہ اگر کسی بخیل کے دروازہ پر سوالی ہر روز جا کر سوال کرے گا تو آخر ایک دن اس کو بھی شرم آجاوے گی ۔ پھر خدا تعالیٰ سے مانگنے والا جو بے مثل کریم ہے کیوں نہ پائے؟ پس مانگنے والا کبھی نہ کبھی ضرور پالیتا ہے۔ نماز کا دوسرا نام دعا بھی ہے۔ جیسے فرمایا اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن: ۶۱) پھر فرمایا وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرۃ: ۱۸۷) جب میرا بندہ میری بابت سوال کرے پس میں بہت ہی قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے۔ بعض لوگ اس کی ذات پر شک کرتے ہیں ۔ پس میری ہستی کا نشان یہ ۔ ا یہ ہے کہ تم مجھے پکارو اور مجھ سے مانگو میں تمہیں پکاروں گا اور جواب دوں گا اور تمہیں یاد کروں گا۔ اگر یہ کہو کہ ہم