ملفوظات (جلد 7) — Page 12
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲ جلد ہفتم سلسلہ نہیں ہے کہ پھونک مار کر کچھ حاصل ہو جائے یا بدوں سعی اور مجاہدہ کے کوئی کامیابی مل سکے۔ دیکھو! آپ شہر سے چلے تو سٹیشن پر پہنچے۔ اگر شہر سے ہی نہ چلتے تو کیونکر پہنچتے ۔ پاؤں کو حرکت دینی پڑی ہے یا نہیں؟ اسی طرح سے جس قدر کاروبار دنیا کے ہیں سب میں اول انسان کو کچھ کرنا پڑتا ہے ۔ جب وہ ہاتھ پاؤں ہلاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی راہ میں وہی لوگ کمال حاصل کرتے ہیں جو مجاہدہ کرتے ہیں ۔ اس لیے فرمایا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : ۷۰) پس کوشش کرنی چاہیے کیونکہ مجاہدہ مجاہدہ ہی کامیابیوں کی راہ ہے۔ ۲۸ اکتوبر ۱۹۰۴ء (بمقام سیالکوٹ بعد نماز جمعه ) بیعت کی اہمیت میں ان لوگوں کے لیے جنہوں نے بیعت کی ہے چند نصیحت آمیز کلمات کہنا چاہتا ہوں ۔ یہ بیعت تخم ریزی ہے اعمالِ صالحہ کی ۔ جس طرح کوئی باغبان یا درخت لگاتا ہے یا کسی چیز کا بیج ہوتا ہے۔ پھر اگر کوئی شخص بیج بو کر یا درخت لگا کر وہیں اس کو ختم کر دے اور آئندہ آبپاشی اور حفاظت نہ کرے تو وہ تخم بھی ضائع ہو جاوے گا ۔ اسی طرح انسان کے ساتھ شیطان لگا رہتا ہے۔ پس اگر انسان نیک عمل کر کے اس کے محفوظ رکھنے کی کوشش نہ کرے تو وہ عمل ضائع جاتا ہے۔ تمام مخلوقات مثلاً مسلمان ہی سہی اپنے مذاہب کے فرائض میں پابند ہیں مگر اس میں کوئی ترقی نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیک عمل کے بڑھانے کا خیال ان کو نہیں ہوتا اور رفتہ رفتہ وہ عمل رسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ پس مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے تو کلمہ پڑھنے لگے۔ ہندوؤں کے گھر میں ہوتے تو رام رام کرتے ۔ یا د رکھو کہ بیعت کے وقت تو بہ کے اقرار میں ایک برکت پیدا ہوتی ہے۔ اگر ساتھ اس کے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی شرط لگا لے تو ترقی ہوتی ہے۔ مگر یہ مقدم رکھنا تمہارے اختیار میں نہیں الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مورخہ ۱۰ و۱۷نومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۳