ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 201

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۱ جلد ہفتم آسمان پر گرد و غبار ہے۔ بارش نہ ہونے اور موسم میں ایک غیر معمولی غیر معمولی موسم کا نشان رنگ رہنے کا ذکر تھا۔ فرمایا۔ ایک دن سخت گرمی اور لوگوں کی گھبراہٹ کو دیکھ کر میں دعا کرنے لگا تھا مگر پھر مجھے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ یہ جو کچھ کر رہا ہے ہماری ہی تائید میں کر رہا ہے۔ آج اگر طاعون اٹھ جائے زلزلوں سے امن ہو جائے اور فصلیں خوب پک جائیں تو پھر لوگوں کا یہی کام ہوگا کہ امن پا کر ہم کو گالیاں (بقیہ حاشہ ) حضرت موسیٰ علیہ السلام دوسرے حضرت مسیح علیہ السلام اور ان دونوں میں سے کسی کے صحابہ کا ذکر کر کے طبیعت خوش نہیں ہوتی ۔ حضرت موسی کی قوم ان کو ہی سنگسار کرنے کو آمادہ ہو جاتی تھی اور اکثر ان کے ساتھ جھگڑتے اور انکار کر دیتے تھے۔ وہ سرکش اور کج طبع قوم تھی اور حضرت عیسی کے صحابہ کا وہ حال تھا جو میں نے ابھی بیان کیا کہ آخری وقت انکار کر دیا۔ اس تقریر کے بعد صحابہ کرام کے اس محبت و اخلاص کا ذکر فرماتے رہے جو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رکھتے تھے۔ اسی ضمن یہ ذکر آ گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر وہ کس قدر بے قرار ہو گئے تھے۔ انہیں قرار نہیں آیا جب تک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھ کر سب انبیاء علیہم السلام کی وفات پر اجماع نہ کرالیا۔ فرمایا۔ یہ کیا ہی مبارک اجماع تھا ! اگر یہ اجماع نہ ہوتا تو بڑا بھاری فتنہ اسلام میں پیدا ہوتا۔ اسلام میں سب سے پہلا اجماع مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( ال عمران: ۱۴۵) ہی پر ہوا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رض کا منشا تو اس صدمہ ہی کو دور کرنا تھا اور وہ مرگ یاراں جشنی دارد ہی سے دور ہوتا تھا۔ اگر اس آیت کے استدلال میں حضرت مسیح کو مستثنیٰ کیا جاتا تو صحابہ کے درد کا کیا علاج ہوتا؟ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسیح سے کم درجہ پر تھے جو زندہ نہ رہتے ؟ قَد خَلَتْ کے معنے تو خود اسی آیت میں آفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِل نے کر دیئے ہیں ۔ کیا اس میں رفع بجسد العنصر کی بھی کہیں لکھا ہے؟ غرض جس طرح پر کسی کی قوت شامہ ماری جاوے تو اسے خوشبو کا حاسہ نہیں رہتا۔ اسی طرح پر ان لوگوں کی ایمانی قوت شامہ مرگئی ہے جو مسیح کو زندہ آسمان پر لے جاتے ہیں۔ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے تو پھر حالت بہت خطرناک ہے۔ یہی عقیدہ ان کی خدائی کی پہلی اینٹ قرار دیا گیا ہے۔“ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۴)