ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 202

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۲ جلد ہفتم دینے میں مصروف ہو جائیں ۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں زور آور حملوں سے تیری سچائی کو ظاہر کر دوں گا۔ یہی اس کے حملے ہیں۔ پس ہم ان حملوں کو روکنے کے واسطے کیوں دعا کریں؟ دنیا کے آرام میں ہمارا آرام نہیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارے ہی لیے ہو رہا ہے اور ہمیشہ سے عادت اللہ اسی طرح جاری ہے۔ جب ہمارے ہر امر کا متولی خدا ہے تو ہمیں کیا غم ہے۔ جو ہو گا کوئی نشان ہی ہوگا۔ ۱۱ اگست ۱۹۰۵ء دربار شام) ( تناسخ حضرت حکیم الامت کا بچہ عبد القیوم بیا تھا۔ گذشتہ شب کو اسے تکلیف تھی ۔ ۔ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام اس کا حال پوچھ رہے تھے ۔ اسی ذکر میں حضرت حکیم الامت نے کہا کہ میں اس سوال پر سوچتا رہا کہ آریہ جو اعتراض کرتے ہیں کہ بچوں کو دکھ یا تکالیف ان کے پچھلے جنم کا نتیجہ ہے۔ اس تحریک پر حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر بیان فرمائی یہ تو بالکل بیہودہ عقیدہ ہے۔ کے اول تو یہ بھی قابل غور امر ہے کہ آیا بچے اس قدر تکلیف محسوس بھی کرتے ہیں یا نہیں جس قدر ماں باپ محسوس کرتے ہیں ۔ کیونکہ جس بھی عقل ہی کے ساتھ بڑھتی ہے اور علاوہ بریں بچہ بھی جو بہشت میں داخل ہوگا تو کسی حق ہی سے ہوگا اس لیے اس قسم کی تکالیف اٹھاتا ہے۔ کے ۱ بدر جلد ا نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۲، ۳ ے بدر سے ۔ بچوں کی تکلیف سے تناسخ نکالنا بڑی نادانی کی بات ہے۔ دو 66 ( بدر جلد ا نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ ء صفحه (۳) سے بدر سے ۔ ” یہ مانا گیا ہے کہ جن باتوں میں حیوانات انسانوں سے مشترک ہیں ان میں حیوان وہ لذت نہیں اٹھا - سکتا۔ ایسا ہی بچے کے واسطے اس قدر احساس نہیں ہے جس قدر بڑے کے واسطے ہے۔ لیکن اگر ہم مان لیں کہ اس کو در حقیقت تکلیف ہے اور اس کے ماں باپ وغیرہ بھی کوئی نہیں ہے جن کی طرف وہ تکلیف منسوب ہو سکے ۔ تب بھی