ملفوظات (جلد 7) — Page 200
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۰ جلد ہفتم گھبرا جاتے ہیں۔ مال اور جسمانی آرام سے بڑھ کر جان پیاری ہوتی ہے۔ صحابہؓ نے سب سے پہلے اپنی عزیز جان کو فدا کیا ۔ برخلاف اس کے یسوع کے شاگردوں میں کوئی بات نہیں دیکھتے جس سے یسوع کی کامیابی پر دلیل پکڑی جائے ۔ پطرس نے انکار کیا بلکہ لعنت کی ۔ یہودا نے گرفتار کرایا باقی بھاگ گئے ۔ معلوم ہوتا ہے ان کے ہادی میں کچھ کشش نہ تھی کہ ان کو برائی اور منتشر ہونے سے روک سکتے ۔ یہ خدا کا فضل ہے جس پر چاہے کرے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات میں ایک کشش اور جذب ہے وہ جذب خدا تعالیٰ اپنے کامل نبی میں رکھ دیتا ہے۔ آنحضرت کے صحابہؓ نے کس قدر وفاداری کا نمونہ دکھایا جس کی نظیر نہ پہلے تھی نہ آگے دکھائی دیتی ہے۔ لیکن خدا چاہے تو وہ پھر بھی ویسا ہی کر سکتا ہے۔ ان نمونوں سے دوسروں کے لیے فائدہ ہے۔ اس جماعت میں خدا تعالیٰ ایسے نمونے پیدا کر سکتا ہے۔ سے خدا تعالیٰ نے صحابہ کی تعریف میں کیا خوب فرمایا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنْتَظِرُ ( الاحزاب: ۲۴) مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو سچا کر دکھایا جو انہوں نے خدا کے ساتھ کیا تھا۔ سوان میں سے بعض اپنی جانیں دے چکے اور بعض جانیں دینے کو طیار بیٹھے ہیں ۔ صحابہ کی تعریف میں قرآن شریف سے آیات اکٹھی کی جائیں تو اس سے بڑھ کر کوئی اسوہ حسنہ نہیں ۔ ہے ل الحکم سے ۔ اگر کوئی کشش نہ تھی تو اس درجہ تک وہ کیونکر پہنچے؟“ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ را گست ۱۹۰۵ء صفحه ۳) الحکم سے ۔ ” پطرس نے آخری وقت پر جو مدد کا وقت تھا انکار کر دیا۔“ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ را گست ۱۹۰۵ء صفحه ۳) سے الحکم سے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو ہر ایک وقت میں ایسا ہو سکتا ہے۔ مولوی عبداللطیف ( رضی اللہ عنہ ) نے بھی اپنا کامل نمونہ دکھایا۔“ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۳) ہے الحکم سے۔ ” جس سلسلہ میں کوئی نمونہ نہ ہو وہ سلسلہ قابلِ تعریف نہیں ہو سکتا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایسا نمونہ دکھایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بڑی تعریف کی ہے بنی اسرائیل میں شہرت یافتہ دو ہی نبی تھے۔ ایک