ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 199

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۹ جلد ہفتم تب یہ کام انجام کو پہنچے گا۔ اگر بالفرض ہماری جماعت کی تعداد بیس پچیس لاکھ تک پہنچ کر ٹھہر جائے تو پھر بھی کیا ہے کچھ بھی نہیں ۔ اتنی تعداد تو سکھوں کی بھی ہے ۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ ساری دنیا اس جماعت سے بھر جائے اور یہ انسان کا کام نہیں ۔ انسان کی زندگی کا تو ایک دم کا اعتبار نہیں وہ کیا کر سکتا ہے؟ لیکن خدا سب کچھ کر سکتا ہے۔ دراصل بڑا معجزہ یہی ہے کہ فرستادہ کی علت غائی نبی کا بڑا معجزہ باطل نہ ہو جاوے۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدہا مجمعات ہیں لیکن سب سے بڑا یہی ہے کہ جس بات کا دعویٰ کیا تھا اس کو پورا کر دکھایا۔ طبیب حاذق اسی طرح پہچانا جاتا ہے کہ بڑے بڑے بیمار اس سے شفا پائیں تب ہی اس کا دعوی سچا ثابت ہو۔ او حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت قوم عرب صحابہ کرام کی مثالی وفاداری کے تمدن اور اخلاق اور رومانیت کا کیا حال تھا؟ گھر گھر میں جنگ اور شراب نوشی اور زنا اور لوٹ مار۔ غرض ہر ایک بدی موجود تھی ۔ کوئی نسبت اور تعلق خدا کے ساتھ اور اخلاق فاضلہ کے ساتھ کسی کو حاصل نہ تھا ہر ایک فرعون بنا پھرتا تھا لیکن آنحضرت کے آنے سے جب اسلام میں داخل ہوئے تو ایسی محبت الہی اور وحدت کی روح ان میں پیدا ہوگئی کہ ہر ایک خدا کی راہ میں مرنے کے لیے طیار ہو گیا ۔ " انہوں نے بیعت کی حقیقت کو ظاہر کر دیا اور اپنے عمل سے اس کا نمونہ دکھا دیا۔ اب تو بعض لوگ بیعت میں داخل ہوتے ہیں تو ذرا سے ابتلا سے لے الحکم سے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ اپنے دعوی کے موافق کر دکھا یا اس کی تو کوئی نظیر ہی نہیں ملتی ۔“ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۳) الحکم سے ۔ ”کیا کوئی اس قوم کوئی اس قوم کی نسبت خیال کر سکتا تھا کہ یہ قوم با ہم متحد ہو گی اور خدا تعالیٰ سے ایسا قوی تعلق پیدا کریں گے کہ باوجود یکہ یہ فرعون سیرت ہیں لیکن اس کی اطاعت میں ایسے محو اور فنا ہوں گے کہ جان عزیز کو بھی اس کی راہ میں دے دیں گے۔ غور کرو کہ کیا یہ آسان امر تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عظیم الشان کامیابی ہے۔ ایک ایسی قوم میں ایسی محبت الہی کا پیدا کر دینا کہ وہ مرنے کو طیار ہو جا ئیں خود آپ کی اعلیٰ درجہ کی قوت قدسی کو ظاہر کرتا ہے۔“ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ ء صفحه (۳)