ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 196

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۶ جلد ہفتم فرمایا۔ عیسائیوں کا عجیب طریقہ ہے۔ اگر کثرت دکھائی جاوے تو کہتے ہیں جبراً مسلمان ہوئے اور اگر کثرت نہ دکھائی جاوے تو کہتے ہیں اسلام کا کچھ اثر نہ ہوا۔ فرمایا۔ تہذیب بھی انکا اپنا بنایا ہوا ایک لفظ ہے جس کے معنے ان کی اصطلاح میں سوائے اس کے نہیں کہ انسان خدا کی مقرر کردہ رسموں کو تو ہین سے دیکھے اور دنیا پرستی اور دہر یہ پن کی طرف جھک جائے۔ سچی تہذیب وہ ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ۔ لے جس کے ذریعہ سے روحانی زندگی حاصل ہوتی ہے اور انسان اور حیوان میں فرق معلوم ہوتا ہے۔ اور جس کے ذریعے سے سچے اور جھوٹھے مذہب میں ایک امتیاز پیدا ہوتا ہے اور انسان کو سفلی زندگی سے دل سرد ہو کر عالم جاودانی کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک تہذیب اس کا نام ہے کہ انسان دنیا کا کیڑا بن جاوے۔ خدا کو بھول جائے اور ظاہری اسباب کی پرستش میں لگ جائے ۔ ہے مگر خدا کے لے الحکم سے۔ ” آسمانی تہذیب تو اور ہے جس میں ایمان، تقوی ، دیانت ، صلاحیت اور نیک کرداری شامل ہے۔ مگر ان کے نزدیک دنیا کے جوڑ توڑ ، ہر قسم کے مکر و فریب کا نام تہذیب ہے۔ یہ تہذیب ان کے ہی نصیب رہے ہم اس کو لینا نہیں چاہتے۔ چند بے ہودہ رسوم و عادات کا نام جو اخلاق سے گری ہوئی ہیں تہذیب نام رکھتے ہیں اور خدائی رسوم و آداب کی تو ہین اور استخفاف کرتے ہیں حالانکہ ان رسوم و عادات کے نتائج اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں جن سے سوسائٹی میں امن اخلاق اور نیک اعمالی پیدا ہوتی ہے۔ اپنی رسوم و عادات کو جن کے نتائج بد ہیں پسندیدہ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ را گست ۱۹۰۵ ء صفحه ۳) سمجھتے ہیں ۔“ 66 الحکم سے۔ ”مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے بیان کیا کہ مسٹر بیک نے ایک مرتبہ علیگڑھ کالج کے طلباء کے سامنے تہذیب پر لیکچر دیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر تم راستہ میں چلوتو لیڈی تمہارے دائیں طرف ہوا اوراگر کوئی تار وغیرہ آجاوے تو اس کو پاؤں سے دبا کر لیڈی کو آرام سے گزرنے دو۔ کھانا کھاؤ تو اپنی بیوی کے ساتھ نہیں بلکہ تمہاری بیوی کسی اور کے ساتھ کھائے اور تم کسی غیر کی بیوی سے ۔“ فرمایا۔ یہ تہذیب ان کو ہی مبارک ہو۔ قرآن شریف نے ہی سچی تہذیب دنیا کو سکھائی ہے۔ یہ تہذیب وہ ہے جس سے انسانیت آتی ہے اور انسان اور حیوان کے درمیان ما بہ الامتیاز حاصل ہوتا ہے اور پھر سچے اور جھوٹے مذاہب کے درمیان ما بہ الامتیاز عطا ہوتا ہے۔ اگر یہ تہذیب کسی کو نہیں ملی تو اسے تہذیب سے کوئی حصہ ہی نہیں ملا۔ یہ دنیا کے کیڑے ہیں ۔ اباحت سے ملی ہوئی باتوں کا نام تہذیب قرار دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے جس تہذیب کے