ملفوظات (جلد 7) — Page 195
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۵ جلد ہفتم دل پر ایک مہر ہوتی ہے وہ حقیقت تک پہنچنے کی سعی نہیں کرتے بلکہ بیہودہ اعتراض کرتے ہیں۔ سعادت خدا تعالیٰ کی عطا اور بخشش ہے کوئی شخص جب تک روح حق اور راستی سے مناسبت نہیں رکھتا ہے اس طرف آ نہیں سکتا اور یہ خدا کے فضل پر موقوف ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اعمال سے شناخت ہو سکتا ہے کہ کونسا مذہب سچا ہے تو وہ لوگ جو راہزنی اور قزاقی کرتے ہیں ان سے پوچھا جاوے تو وہ اسے مکروہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک شکار سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح اور لوگ جو فسق و فجور میں مبتلا ہیں وہ برا نہیں سمجھتے ۔ یہ کوئی بات نہیں ہے۔ اصل یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور فیض کے برکات اور انوار ساتھ ہوں ۔ غرض اول یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق غور کرے اور سمجھے۔ سب سے اوّل اسی کا فرض ہے اور یہ سمجھ ملنا اس کے فضل پر موقوف ہے۔ پھر دعا کرے اور نیک صحبت میں رہے اور یہ بھی خیال کرے کہ عمر کا کوئی اعتبار نہیں ۔ بعض لوگ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ فلاں وقت اس نیکی کو کر لیں گے مگر وہ اس انتظار ہی میں رہتے ہیں اور موت آجاتی ہے۔ اس لیے نیکی کے اختیار کرنے میں دیر نہیں چاہیے۔ لے ۱۰ راگست ۱۹۰۵ء (قبل از عشاء ) ذکر آیا کہ ایک انگریزی اخبار میں مضمون نکلا ہے کہ اسلام ہند میں سچی اور آسمانی تہذیب ری نہیں پھیلا کیونکہ ہند و خود مہذب تھے اور کسی مہذب قوم میں اسلام پھیل نہیں سکتا۔ فرمایا۔ یہ جھوٹھ ہے ہندوستان میں سوائے چند ایک قوموں کے جو باہر سے آئی ہیں ( قریش، مغل، پٹھان ) باقی سب ہند کے باشندے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا مثلاً شیخ ، خواجگان، زمینداروں کی سب اقوام وغیرہ یہ سب پہلے ہندو تھے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ ء صفحه ۲، ۳