ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 197

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۷ جلد ہفتم نزدیک تہذیب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر پورا بھروسہ حاصل ہو جائے اور اس کی عظمت اور ہیبت دل میں بیٹھ جائے اور دل کو سچی پاکیزگی حاصل ہو جائے ۔ یورپ میں جب عیسائیت پھیلی تھی تو اس وقت یورپ کس قدر تاریکی اور سخت بت پرستی میں مبتلا تھا۔ پھر ان وحشی قوموں پر عیسائیت کا کیا اثر ہوا صرف یہ کہ ایک بت پرستی کی جگہ دوسری بت پرستی قائم ہوگئی۔ خدا تعالی کا ارادہ اسلام نے وحشیوں کو حقیقی انسانیت تک پہنچایا۔ ان کے اندر توحید کی روح پھونک دی مگر انجیل کی تعلیم نے صرف یہ سکھلایا کہ ایک انسان کو خدا بنانے کے لیے رغبت دی اور شراب اور سور کھلایا اور خدا تعالیٰ کی سچی عبادت سے آزاد کر کے اباحت کا دروازہ کھولا یا۔ پس چونکہ عیسائی مخلوق پرستی اور آزادی کے عادی ہو گئے ہیں اس لیے نہیں چاہتے کہ سچا دین زمین پر پھیلے مگر خدا کے ارادہ کو کون پلٹ سکتا ہے۔ ان لوگوں کی لڑائی ارادہ الہی کے ساتھ ہے۔ انسانی کوششوں سے اب یہ جنگ فتح نہیں ہو سکتی ۔ مگر خدا سب پر قادر و توانا ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ قادر ہے کہ نیا زمین و آسمان بنائے ۔ عرب کی پہلی حالت کہ وہ کس گند میں پڑے ہوئے تھے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے تھے دیکھ کر اور پھر ان کی پچھلی حالت اسلامی دیکھ کر تسلی ہوتی ہے کہ خدا سب کچھ کر سکتا ہے۔ ساری دنیا پر اثر ڈالنا اور ان کو اباحت کے گندے خیالات سے نکال کر اسلام کا پاک جامہ پہنانا انسانی کام نہیں ہے۔ (بقیہ حاشیہ ) پھیلنے کا ارادہ فرمایا ہے اسے اب کوئی روک نہیں سکتا۔ جیسے جب کوئی بڑا بھاری سیلاب آتا ہے تو اس کے آگے کوئی بند نہیں لگا سکتا ۔ اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس سیلاب سے بھی بڑھ کر زبردست ہے۔ کون ہے جو اس کے آگے بند لگائے؟ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دنیا میں سچی تہذیب اور روحانیت پھیلے اور یہ اس کے بالمقابل عیسائیت کے گندے خیالات پھیلانا چاہتے ہیں ۔ اب خدا تعالیٰ سے ان کی لڑائی ہے۔ معلوم ہو جائے گا کہ اس کا انجام کیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ وہی خدا ہے جس نے زمین و آسمان بنایا ہے۔ وہ چاہے تو نئے سر سے اس زمین و آسمان کو بنا سکتا ہے۔ اب اسی کا کام ہے کہ وہ دنیا پر اثر ڈال دے۔“ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ موخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ء صفحه (۳)