ملفوظات (جلد 7) — Page 194
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۴ جلد ہفتم اسے کہہ سکتا ہے کہ تیرا ہم پر کیا حق ہے؟ اس عقیدہ کو رکھ کر انسان کس طرح پر خدا پرست ہو سکتا ہے بلکہ میرے نزد یک خدا کی ہستی پر دلیل ہی قائم نہیں ہو سکتی ۔ اگر آریوں سے کوئی دہر یہ پوچھے کہ پرمیشر کی ہستی کا کیا ثبوت ہے تو اس کا جواب وہ کیا دے سکتے ہیں؟ کیونکہ صانع کو مصنوعات سے شناخت کرتے ہیں۔ جبکہ مصنوعات ہی کا وجود نہیں تو صانع کا وجود کہاں سے آیا۔ جیو اور پر کرتی کو جو خود بخود و تسلیم کرتے ہیں تو پھر ان کے جوڑ نے جاڑنے کے لیے کیا حاجت ہوسکتی ہے؟ اس طرح پر کوئی دلیل اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ان کے ہاتھ میں نہیں ہے اور جب تک اس کی ہستی پر کوئی دلیل نہ ہو کس طرح کوئی مان لے کہ وہ ہے۔ ماسوا اس کے ان لوگوں کا یہ بھی اصول نہیں کہ خدا رحم کرنے والا ہے۔ ہر شخص کی اس ہستی پر توجہ ہوتی ہے جسے رحیم ، کریم اور فیاض تسلیم کرے۔ لیکن انہوں نے یہ مانا ہے کہ بغیر کرموں کے پھل کے اور کچھ عطا ہی نہیں کر سکتا۔ اگر کرموں پر ہی سارا مدار ہے تو اس خدا پر کیا بھروسہ اور کیا امید جس کا ذرہ بھر بھی احسان نہیں ہے ۔ یہ تمام امور ہیں جب انسان ان کو بنظر غور دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ سوائے اسلام کے دوسروں میں سچی ہدایتیں نہیں ملتی ہیں۔ ماسوا اس کے ایک اور بڑی بات قابل غور ہے کہ اسلام میں بہت بڑی خاصیت یہ ہے کہ انسان جس مطلب کے لیے بنایا گیا ہے وہ اسلام کے سوا حاصل نہیں ہو سکتا۔ وہ کیا ہے؟ یہ کہ خدا کی محبت بڑھے اور اس کی معرفت ترقی کرے جس سے وہ ایک کامل شوق ذوق کے ساتھ اس کی عبادت کرے۔ لیکن یہ مطلب کبھی پورا نہیں ہو سکتا جب تک تعلیم اور ہدایت کامل نہ ہو اور پھر اس تعلیم اور ہدایت پر عمل کرنے کے جو نتائج اور ثمرات ہیں ان کا نمونہ موجود نہ ہو جس کو دیکھ کر معلوم ہو کہ خدا قادر خدا ہے۔ یہ ساری باتیں اس وقت سمجھ میں آتی ہیں جب انسان پر غور مطالعہ کرتا ہے۔ عقلمند اور سعید کے دل میں تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایک واعظ پیدا کر دیتا ہے اور وہ اسلام اور دوسرے مذاہب میں اسی طرح امتیاز کر لیتا ہے جس طرح پر تاریکی اور نور میں کر لیتا ہے لیکن بعض شخص ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے