ملفوظات (جلد 7) — Page 193
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۳ جلد ہفتم خدا تعالیٰ کی جو شکل اور صفات پیش کرتے ہیں وہ سب کی سب درست ہوں۔ عیسائی ، ہندو، چینی ہر ایک جدا جدا صفات پیش کرتا ہے پھر کون عقلمند یہ مان لے گا کہ ہر ایک اپنے اپنے بیان میں سچا ہے۔ ماسوا اس کے سچائی کے خود انوار اور برکات ہوتے ہیں۔ یہ بھی تو سچے مذہب کی علامات دیکھنا چاہے کہ وہ نانات اور انوار و برکات کس دا کو مان کر ملتے ہیں اور کسی دین میں وہ پائے جاتے ہیں۔ ایک شخص ایک نسخہ کو استعمال کرتا ہے اگر اس نسخہ میں کوئی خوبی اور اثر ہے تو صاف ظاہر ہے کہ چند روز کے استعمال کے بعد ہی اس کی مفید تا شیریں معلوم ہونے لگیں گی۔ لیکن اگر اس میں کوئی خوبی اور تاثیر نہیں ہے تو خواہ ساری عمر اسے استعمال کرتے جاؤ کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اس معیار پر اسلام اور دوسرے مذاہب کی سچائی اور حقیت کا بہت جلد پتہ لگ جاتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی تاثیر اور انوار و برکات کے لیے کسی گذشتہ قصہ کا حوالہ نہیں دیتا اور نہ صرف آئندہ کے وعدہ ہی پر رکھتا ہے بلکہ اس کے پھل اور آثار ہر وقت اور ہر زمانے میں پائے جاتے ہیں اور اسی دنیا میں ایک سچا مسلمان ان ثمرات کو کھا لیتا ہے ۔ بتلاؤ ایسے مذاہب انسان کو کیا امید دلا سکتے ہیں جن میں تو بہ تک منظور نہیں ۔ ایک گنہ کر کے جب تک کروڑوں جو نہیں نصیب نہ ہو لیں خدا سے صلح ہی نہیں ہو سکتی وہاں انسان کیا پائے گا۔ اس کی روح کو راحت اور تسلی کیونکر مل سکے گی ؟ مذہب کی سچائی کی بڑی علامت یہ ہے کہ اس راہ سے دور افتادہ خدا کے نزدیک آجاتا ہے۔ جیسے جیسے وہ نیک عمل کرتا جاوے۔ اسی اسی قدر تاریکی دور ہو کر معرفت اور روشنی آتی جاوے اور انسان خود محسوس کر لے کہ وہ نجات کی ایک یقینی راہ پر جا رہا ہے۔ اس کی ہدایتیں ایسی صاف اور واضح ہوں کہ انسان ان کے ماننے اور اس پر عمل کرنے میں اٹکے نہیں ۔ بھلا یہ بھی کوئی تعلیم اور اصول ہے کہ ذرہ ذرہ کو خدا قرار دے دیا جاوے جیسے خدا زلی ابدی ہے۔ اسی طرح پر ذرات عالم اور ارواح کو بھی ازلی ابدی تسلیم کیا جاوے؟ اگر ایسا کوئی خدا ہے کہ جس نے ایک ذرہ بھی کسی قسم کا پیدا نہیں کیا تو اس پر بھروسہ کیسا ؟ اور اس کا ہم پر حق کیا ہے جو عبادت کریں؟ کیونکہ عبادت کے لیے حق بھی تو ہونا چاہیے جب کوئی حق ہی نہ ہو تو ایک ذرہ ذرہ