ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 11

ملفوظات حضرت مسیح موعود 11 جلد ہفتم مجاہدہ کے وہ کمالات حاصل کر لیں جو مجاہدات سے حاصل ہوتے ہیں۔ صوفیاء کرام کے حالات میں لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے آکر ان سے کہا کہ کوئی ایسا انتظام ہو کہ ہم پھونک مارنے سے ولی ہو جاویں۔ ایسے لوگوں کے جواب میں انہوں نے یہی فرمایا ہے کہ پھونک کے واسطے بھی تو قریب ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ پھونک بھی دور سے نہیں لگتی ۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم : (۴۰) یعنی کوئی انسان بغیر سعی کے کمال حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ قانون ہے۔ پھر اس کے خلاف اگر کوئی کچھ حاصل کرنا چاہے تو وہ خدا تعالیٰ کے کاموں کو توڑتا ہے اور اسے آزماتا ہے اس لیے محروم رہے گا۔ دنیا کے عام کا روبار میں بھی تو یہ (بقیہ حاشیہ ) دنیاوی مخمصوں کو ترک کر دو۔ اس پر ان صاحب نے کہا کہ آپ وہاں ہی دعا کر سکتے ہیں ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ دعا جب کام کرتی ہے جب انسان کی کوشش بھی ساتھ ہو۔ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ پھونک مار کر ولی بنا دیا جاوے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ پھونک بھی اسی آدمی کو لگتی ہے جو نزدیک آوے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ بغیر انسان کی سعی کے کچھ ہو جاوے۔ قرآن شریف میں ہے لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعَى (النجم:۴۰) اور دل کی ہر ایک حالت کے لیے ایک ظاہری عمل کا نشان ضرور ہوتا ہے۔ جب دل پر غم کا غلبہ ہو تو آنسو نکل آتے ہیں۔ اسی لیے شریعت نے ثبوت کا مدار ایک شہادت پر نہیں رکھا جب تک دوسرا گواہ بھی نہ ہو۔ پس جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔ تب تک کچھ نہیں بنتا۔ پوچھا کہ آپ کب واپس ہوں گے؟ فرمایا۔ رفتن به ارادت و آمدن به اجازت۔ طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ ہے بلا لوگوں کی شقاوت کی ایک یہ نشانی ہے کہ نزول بلا پر بجائے اس کے کہ استغفار کریں جھوٹی تاویلوں سے دل کو تسلی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میاں بیماری ہوا ہی کرتی ہے۔ یہ دہریت کی علامت ہے یعنی وہ لوگ اس میں تصرف الہی کو نہیں مانتے۔ پھر یہ تاویل کرتے ہیں کہ دیکھو چین اور لنڈن میں نہیں ۔ کم بختوں کو یہ خیال نہیں کہ اپنے نفس کی اصلاح اور فکر کریں اور چین اور لنڈن کی فکر پڑ جاتی ہے۔“ (البدر جلد ۳ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه کم و ۸ رنومبر ۱۹۰۴ صفحه ۱۰)