ملفوظات (جلد 7) — Page 165
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۵ جلد ہفتم حضرت خلیفۃ اللہ علیہ السلام کی پُر در دبات پر سکوں میں نے ایک دوست کی نسبت عرض کیا کہ تمام هم و غم دین کے لیے ہونا چاہیے بھی اتاری کا ہی زیادہ ہوتا ہے ہو تم کے ان کے دل پر غالب آنے کا خوف ہے۔ 200 اور غم وهم فرمایا۔ میں نے دعا تو بہت کی ہے اور التزاماً کرتا ہوں۔ لیکن مجھے بھی یہ فکر رہتی ہے کہ ہر شخص دنیا کے غم وھم میں گرفتار ہے۔ دین کے غم وھم کا موقع انہیں کب ملے گا۔ اس زندگی میں مصائب کا آنا ضروری ہے اور انسان کی زندگی کے محدود اوقات میں کوئی نہ کوئی وقت کسی حادثہ اور رنج کا نشانہ ہوتا ہے۔ اگر اسی طرح ایک شخص کی روح دنیا کے بگڑے ہوئے معاملات کی فکر میں پیچ و تاب کھاتی رہے تو وہ وقت صافی اسے کب میسر آئے گا جبکہ اس کا سارا ھم وہم دین ہوگا ۔ وہ جماعت جس نے ۔ بیعت میں اقرار کیا ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے وہ بھی اگر اسی دلدل میں دن رات پھنسے ہیں تو بتائیں وہ اس نازک عہد کے ایفاء کی طرف کب توجہ فرمائیں گے۔ غمر فرمایا۔ میں تو حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ جب سے مجھے ہوش ہے میں دنیا کے ھم وغم میں کبھی مبتلا نہیں ہوا۔ فرمایا۔ جب میری عمر غالباً پندرہ برس کی ہوگی ایک کھتری سے میں نے کہا جو حضرت والد صاحب کے حضور میں بیٹھا ہوا اپنی تلخ کامیاں اور نا مرادیاں بیان کرتا اور سخت کڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا لوگ دنیا کے لیے کیوں اس قدر دکھ اٹھاتے اور اس کے غم وھم میں گرفتار ہیں۔ اس نے کہا تم ابھی بچہ ہو۔ جب گرہستی ہو گے جب تمہیں ان باتوں کا پتہ لگے گا۔ لے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ ملفوظات ۲۶ جولائی ۱۹۰۵ء مسیح یہ کو لکھے جو ۲۷ جولائی ۱۹۰۵ء کے بدر میں حضرت خلیفۃ اللہ علیہ السلام کی پر درد بات“ کے عنوان سے شائع دو 6 ہوئے اس لحاظ سے یہ ۲۴ جولائی کے بیان فرمودہ ہیں کیونکہ ۲۶ تاریخ کو اگر پرسوں کا حوالہ دیا جائے تو ۲۴ ہی بنتا ہے۔ (مرتب)