ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 166

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۶ جلد ہفتم فرمایا۔ ایک عرصہ کے بعد جب غالباً میری عمر چالیس کے قریب ہوگی کسی تقریب سے پھر اسی کھتری سے گفتگو کا اتفاق ہوا میں نے کہا اب بتاؤ اب تو میں گرہستی ہوں۔ اس نے کہا تم تو ویسے ہی ہو۔ فرمایا۔ ہر شخص اپنے دل میں جھانک کر دیکھے کہ دین و دنیا میں سے کس کا زیادہ غم اس کے دل پر غالب ہے ۔ اگر ہر وقت دل کا رُخ دنیا کے امور کی طرف رہتا ہے تو اسے بہت فکر کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ کلمات الہیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی ۔ فرمایا۔ کاش لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آجاتی کہ جس شخص کا تمام هم وغم دین کے لیے ہوتا ہے اس کے دنیا کے ھم وغم کا اللہ تعالی متکفل ومتوتی ہو جاتا ہے۔ فرمایا۔ میں نے کبھی نہیں سنا اور نہ کوئی کتاب گواہی دیتی ہے کہ کبھی کوئی نبی بھوکا مرا ہو یا اس کی اولا د دروازوں پر بھیک مانگتی پھرتی ہو۔ ہاں دنیا کے ملوک اور امراء اور اغنیاء کا یہ بُرا حال اکثر سنا گیا ہے کہ ان کی اولاد نے در بدر ٹکڑے مانگے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ ہے کہ کبھی کوئی کامل مومن بستر نرم سے خاکستر گرم پر نہیں بیٹھا اور نہ اس کی اولادکو روز بد دیکھنا نصیب ہوا۔ اگر لوگ ان باتوں پر پختہ ایمان لے آئیں اور سچا اور پاک بھروسہ اللہ تعالیٰ پر کر لیں تو ہر قسم کی روحانی خودکشی اور دلی جلن سے رہائی پا جائیں ۔ فرمایا۔ اکثر لوگوں کو اولاد کی آرزو بھی اس خیال سے لگی رہتی ہے کہ کوئی ان کی مردار دنیا کا وارث پیدا ہو جائے ۔ نہیں جانتے کہ اگر وہ بدکارو نا ہنجار نکلے تو ان کا کمایا ہوا روپیہ اور اندوختہ فسق و فجور میں ان کا معاون ہوگا اور ان کی سیاہ کاریوں کا ثواب کے ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہوتا رہے گا۔ فرمایا۔ اولاد کی آرزو کے لیے حضرت زکریا علیہ السلام کا سا دل درکار ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں اس کا ذکر کرنا اس لیے ہے کہ حضرت زکریا کی دعا ولد صالح کے لیے مومنوں کے لیے اُسوہ ٹھہر جائے ۔ لے بمعنی اجر ، بدلہ (مرتب)