ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 9

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹ جلد ہفتم مصلحت اور موقع کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک لفظ اس قسم کا بیان فرمایا ہے کہ جہاں آپ کے بہت سے انوار و برکات اور فضائل بیان کیے ہیں وہاں بَشَرٌ مِثْلُكُم (الكهف : ااا) بھی کہہ دیا ہے مگر اس کے یہ معنے ہر گز نہیں ہیں کہ آنحضرت فی الواقع ہی عام آدمیوں جیسے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ آپ کی شان میں اس لیے استعمال فرمایا کہ دوسرے انبیاؤں کی طرح آپ کی پرستش نہ ہو اور آپ کو خدا نہ بنایا جاوے۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ آپ کے فضائل و مراتب ہی سلب کر دیئے جاویں۔ آخر کار تجویز ہوا کہ ایک صاحب ذی وجاہت وڈی اثر کے ہاتھ میں مہمانوں کی تواضع کا اہتمام دیا جاوے۔ ۲۳ اکتوبر ۱۹۰۴ء (بوقت ظهر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تصویری کارڈ ظہر کے وقت مفتی محمدصادق صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص کی تحریری درخواست بذریعہ کارڈ کے ان الفاظ میں پیش کی کہ یہ شخص حضور کی تصویر کو خط و کتابت کے کارڈوں پر چھاپنا چاہتے ہیں اور اجازت طلب کرتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو اسے نا پسند کرتا ہوں ۔ یہ الفاظ جا کر میں نے اپنے کانوں سے سنے ۔ لیکن حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حکیم فضل دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس سے پیشتر آپ نے یہ الفاظ فرمائے کہ یہ بدعت بڑھتی جاتی ہے میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ ہے ل البدر جلد ۳ نمبر ۴۱، ۴۲ ، مورخہ یکم و ۸ رنومبر ۱۹۰۴ صفحه ۹ نیز الحکم جلد ۸ نمبر ۴۰ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۲،۱ البدر جلد ۳ نمبر ۴۱، ۴۲، مورخہ یکم و ۸ رنومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۹