ملفوظات (جلد 7) — Page 8
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد ہفتم وہ ہر ایک شخص کی احتیاج کو مد نظر رکھے مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اور کام کی کثرت ہے ممکن ہے کہ اسے خیال نہ رہتا ہو، اس لیے کوئی دوسرا شخص یا د دلا دیا کرے۔ کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دست کش نہ ہونا چاہیے، کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں اور جو نئے ناواقف آدمی آتے ہیں تو یہ ہمارا حق ہے کہ ان کی ہر ایک ضرورت کو مد نظر رکھیں ۔ بعض وقت کسی کو بیت الخلاء کا ہی پتہ نہیں ہوتا تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ اس لیے ضرور ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھا جاوے۔ میں تو اکثر بیمار رہتا ہوں اس لیے معذور ہوں ۔ مگر جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لیے قائم مقام کیا ہے یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔ کیونکہ لوگ صدہا اور ہزار ہا کوس کا سفر طے کر کے صدق اور اخلاص کے ساتھ تحقیق حق کے واسطے آتے ہیں پھر اگر ان کو یہاں تکلیف ہو تو ممکن ہے کہ رنج پہنچے اور رنج پہنچنے سے اعتراض بھی پیدا ہوتے ہیں اس طرح سے ابتلا کا موجب ہوتا ہے۔ اور پھر گناہ میز بان کے ذمہ ہوتا ہے۔ بیان کیا گیا کہ حضور بعض لوگ جو مسافر خانہ میں نو وارد لوگوں سے مذہبی مناظرے شروع کر دیتے ہیں اور اس میں وہ اپنے خیال اور رائے کے موافق کلام کرتے ہیں جو کہ بعض اوقات بے محل اور حضور کے منشاء کے خلاف بھی ہوتی ہے اور نو وارد متلاشی آدمی اس سے اندازہ لگاتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کا یہی مشرب ہو گا حالانکہ یہ بالکل غلطی ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ نو واردوں کے لیے ابتلا ہوتا ہے۔ حضور علیہ السلام نے تجویز فرمایا کہ اس قسم کی کلام ہرگز نہ ہونی چاہیے ۔ ہمارے بعض مناظرین کو چونکہ نصاری کے ساتھ کلام کرنی پڑتی ہے اور جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان کرتے ہیں تو محل اور موقع کے لحاظ سے ان کو یسوع کی نسبت اسی قسم کے ثبوت دینے پڑتے ہیں ۔ اور وہ مقتضائے وقت ہوتا ہے مگر ہر ایک آدمی اس کا اہل نہیں ہے اور دوسرے لوگ اکثر کسی نبی کی شان میں بھی کوئی کلمہ گستاخی یا بے ادبی کا استعمال کرتے ہیں تو وہ گناہ کرتے ہیں۔ یہ کبھی نہ گمان کرنا چاہیے کہ حضرت مسیح یا دوسرے انبیاء ایک معمولی آدمی تھے وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور مقرب تھے قرآن شریف نے