ملفوظات (جلد 7) — Page 161
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۱ جلد ہفتم کا نام ہے کہ جو حدیں لوگوں نے مقرر کی ہوئی ہیں ان سے آگے بڑھ کر رجا پیدا ہو ورنہ اس میں تو آدمی زندہ ہی مرجاتا ہے۔ اسی جگہ سے اللہ تعالیٰ کی شناخت شروع ہو جاتی ہے ۔ مجھے ایسے معاملات میں مولوی رومی کا ایک شعر بہت پسند آیا ہے۔ اے کہ خواندی حکمت یونانیاں ه حکمت ایمانیاں را هم بخواں عام لوگوں کے نزدیک جب کوئی معاملہ یاس کی حالت تک پہنچ جاتا ہے خدا تعالی اندر ہی اندر تصرفات شروع کرتا ہے اور معاملہ صاف ہوجاتا ہے۔ دعا کے واسطے بہت لوگوں کے خطوط آتے ہیں۔ ہر ایک کے لیے جو دعا کے واسطے لکھتا ہے دعا کرتا ہوں ۔ لیکن اکثر لوگ دعا کی اصل فلاسفی سے ناواقف ہیں اور نہیں جانتے کہ دعا کے ٹھیک ٹھکانہ پر پہنچنے کے واسطے کس قدر توجہ اور محنت درکار ہے ۔ در اصل دعا کرنا ایک قسم کی موت کا اختیار کرنا ہوتا ہے۔ ۴ جولائی ۱۹۰۵ء عاجز سے نے ایک اخبار ولایت کا پیش کیا جس میں عیسویت اس زمانہ کا سب سے بڑا فتنہ پر کچھ لے دے کی ہوئی تھی۔ فرمایا۔ عیسائیت تو خود بخود گلتی جاتی ہے لیکن بڑا فتنہ اس زمانہ کا دہریت والی سائنس ہے لے بدر سے ۔ مگر ہم اس معاملہ میں لا چار ہیں کہ ایسی توجہ پیدا ہو جائے یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے ہو سکتا ہے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ لیکن اصحاب میں سے ایک نو جوان تازہ شادی کردہ جب سانپ سے ڈسا جا کر مر گیا اور دوسروں نے عرض بھی کی کہ اس کے واسطے دعا کی جائے تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے بھائی کو دفن کر دو ۔ لوگ دعا کے اصل راز کو نہیں سمجھتے ۔ ( بدر جلد نمبر ۱۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۵ صفحه (۲) الحکم جلد ۹ نمبر ۲۴ مورخه ۱۰ جولائی ۱۹۰۵ صفحه ۱۰ رو ۱۰ ۱۰ سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ (مرتب) 66