ملفوظات (جلد 7) — Page 160
ملفوظات حضرت مسیح موعود ١٦٠ جلد ہفتم آخری زمانہ ہے ۔ ہم فیصلہ سننے کے انتظار میں ہیں ۔ ہاں سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ میں اپنی جماعت کے سب لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ دن بہت نازک ہیں ۔خدا سے ہراساں وتر ساں رہو۔ ایسا نہ ہو کہ سب کیا ہوا برباد ہو جائے ۔ اگر تم دوسرے لوگوں کی طرح بنو گے تو خدا تم میں اور ان میں کچھ فرق نہ کرے گا اور اگر تم خود اپنے اندر نمایاں فرق پیدا نہ کرو گے تو پھر خدا بھی تمہارے لیے کچھ فرق نہ رکھے گا۔ عمدہ انسان وہ ہے جو خدا کی مرضی کے مطابق چلے ۔ ایسا انسان ایک بھی ہو تو اس کی خاطر ضرورت پڑنے پر خدا ساری دنیا کو بھی غرق کر دیتا ہے۔ لیکن اگر ظاہر کچھ اور ہو اور باطن کچھ اور تو ایسا انسان منافق ہے اور منافق کافر سے بدتر ہے۔ سب سے پہلے دلوں کی تطہیر کرو۔ مجھے سب سے زیادہ اس بات کا خوف ہے۔ ہم نہ تلوار سے جیت سکتے ہیں اور نہ کسی اور قوت سے۔ ہمارا ہتھیار صرف دعا ہے اور دلوں کی پاکیزگی ۔ اگر ہم اپنے آپ کو درست نہ کریں گے تو ہم سب سے پہلے ہلاک ہوں گے۔ اگر خدا نہ چاہے تو جاپان میں کیا رکھا ہے؟ ہاں زبان سیکھنے میں کوئی حرج نہیں داشتہ آید بکار ۔ اگر ہمیں خدا کا حکم ہو تو بغیر زبان سیکھنے کے آج ہی چل پڑیں ۔ ہم ایسے معاملات میں کسی کے مشورہ پر نہیں چل سکتے ۔ خدا کے منشا کے قدم بقدم ہمارا کام ہے۔' یکم جولائی ۱۹۰۵ء دعا کی طاقت کچھ بیاریوں کا ذکر تھا ۔ فرمایا۔ میرا مذہب بیماریوں کے دعا کے ذریعہ سے شفا کے متعلق ایسا ہے کہ جتنا میرے دل میں ہے اتنا میں ظاہر نہیں کر سکتا ۔ طبیب ایک حد تک چل کر ٹھہر جاتا ہے اور مایوس ہو جاتا ہے مگر اس کے آگے خدا دعا کے ذریعہ سے راہ کھول دیتا ہے۔ کے خدا شناسی اور خدا پر توکل اسی بدر جلد ا نمبر ۱۳ مورخه ۲۹ جون ۱۹۰۵ ء صفحہ ۲ ( اس سلسلہ میں نیز دیکھئے ۲۶ اگست ۱۹۰۵ ء کی ڈائری ) بدر میں ہے ۔ ”ہمارا تو اصل مذہب یہی ہے کہ اگر تمام دنیا کے طبیب ناامید ہوجائیں اور موت کا فتویٰ لگائیں پھر بھی روحانی اسباب کے میسر آنے پر اور کافی توجہ کے پیدا ہونے پر دعا قبول ہو کر شفا ہو جاتی ہے ۔“ 66 ( بدر جلد نمبر ۱۴ مورخہ ۶ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحہ (۲)