ملفوظات (جلد 7) — Page 7
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد ہفتم مضبوط کرے تا کہ ہر طرح وہ اس کا حافظ و ناصر ہوئے) اور جب بیمار ہوتا ہے تو پھر دوبارہ صحت اس لیے طلب کرتا ہے کہ انہی دنیا کے امور میں مبتلا ہو ( اگر اس کا ارادہ خدمت دین ہو تو اس کا صحت ا کا طلب کرنا گو یا منشائے الہی کے مطابق ہوگا ۔ ) اسی بیمار کی نسبت ذکر ہوا کہ اس نے کئی سو روپیہ لوگوں سے لینا ہے مگر صرف چند روپیوں کے کا غذات ہیں باقی تمام زبانی لین دین ہے اور اس کی دولڑکیاں ہیں ۔ بعض احباب نے تجویز کیا کہ جو کچھ رقوم لوگوں کے ذمہ ہیں اور وہ تحریر میں نہیں آئیں تو چاہیے کہ اب دو آدمی گواہ مقرر کر کے اس کی زندگی میں وہ رقمیں ان مقروضوں سے منوالی جاویں اور تحریر کرالی جاوے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کی ضرور کوشش کرنی چاہیے یہ بڑے ثواب کی بات ہے ممکن ہے کہ اگر وہ مر جاوے تو بے چاری لڑکیوں کو ہی کچھ فائدہ پہنچ جاوے۔ اہل اسلام کی وحدت اور اخوت پر ذکر ہوا کہ عیسائیوں نے بھی اس خوبی کو اسلام میں مساوات تسلیم کیا ہے کہ مسلمان لوگ جب مسجد میں داخل ہو جاویں تو ان میں بادشاہ اور امیر و غریب کی کوئی تمیز نہیں رہتی اور کسی کو حق نہیں کہ کسی قسم کا امتیاز کرے۔ حالانکہ عیسائیوں کے گرجے اس سے محروم ہیں۔ خاص انگریزوں کے گرجوں میں عام عیسائی لوگ داخل نہیں ہو سکتے ۔ پھر گرجوں میں درجہ بدرجہ چوکیاں لگی ہوتی ہیں اور رومن کیتھولک تو نشست گاہوں پر نام بھی لکھ دیتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مسلمانوں کے معبد میں یہ ایک بے نظیر نمونہ ہے کہ سب کو یکساں نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ مولانا حکیم نور الدین صاحب نے عرض کی کہ ہماری مسجد میں تو خود امام الوقت بھی مقتدی بن کر نماز پڑھتا ہے۔ مہمان کی تواضع کے متعلق آپ نے فرمایا کہ مہمان خانہ کے منتظمین کے لیے ہدایات مہمان کی تو اس کے لنگر خانہ کے مہتم کو تاکید کر دی جاوے کہ ے ، ۲ بریکٹ کے اندر کی عبارت ایڈیٹر کی طرف سے معلوم ہوتی ہے۔ ورنہ اگر حضور ہی کے فقرات ہوتے تو بریکٹ میں دینے کی ضرورت نہ تھی۔ حضور کی ڈائریوں میں بالعموم یہ طریق چلتا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ (مرتب)