ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 144

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۴ جلد ہفتم بعض جگہ مخالفین کا وجود بھی ضروری ہے ذکر کیا کہ بی جی خانین جاری جماعت کے لوگوں کو بہت دکھ دیتے ہیں اور بڑی بڑی ایذا رسانی کرتے ہیں ۔ فرمایا ۔ خدا تعالیٰ کے آگے کسی کا نابود کرنا کچھ مشکل نہیں۔ لیکن جس کی طاقتیں بڑی ہوتی ہیں اس کا حوصلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ لیکن ایسے آدمیوں کا وجود بھی ضروری ہے۔ اعداء کا وجود انبیاء کے واسطے بہت مفید ہوتا ہے۔ قرآن شریف کے جو تیس سیپارے ہیں ۔ اس کے اکثر حصہ نزول کا سبب اعداء ہی ہوئے اگر سب ابوبکر کی طرح آمَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہنے والے ہوتے تو چند آیتوں پر یہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ درخت کے واسطے جیسے صاف پانی کی ضرورت ہے ویسے ہی کچھ کھاد کے لیے گند کی بھی ضرورت ہے۔ بہت سی آسمانی سرگرمی انہی لوگوں کی شرارتوں پر منحصر ہے۔ کوئی بھی نہیں جس کے اعداء نہیں ہوئے ۔ نبی کے نفس کے واسطے یہ امر بہتر ہے کیونکہ اس طرح اس کی توجہ بڑھتی ہے ۔ اور معجزات تائید و نصرت زیادہ ہوتے ہیں اور جماعت کے واسطے بھی مفید ہے کہ وہ پکے ہو جاتے ہیں۔ خدا کو د پیر نہیں لگتی کہ لاکھوں کروڑوں کو ایک آن میں تباہ کر دے لیکن ضرورت کے سبب مخالفین کا وجود قائم رکھا جاتا ہے جس شہر میں خاموشی سی ہو اس جگہ جماعت ترقی نہیں پکڑتی ۔ خدا کی حکمتوں کو لو ہر ایک شخص نہیں پہچان سکتا ۔ لے ہے۔ ۲۶ رمتی ۱۹۰۵ء فرمایا۔ گھر میں طبیعت علیل تھی ۔ بہت سردر ، دبخار اور کھانسی چند الہامات اور ایک رویا بھی تھی۔ لوگوں کے لیے ابتلا کا خوف ہوتا ہے میں نے رات بہت دعا کی ۔ شیخ رحمت اللہ صاحب کو مخاطب کر کے ) آپ کے لیے بھی دعا کی تھی۔ پہلے تو ایک مشتبہ سا الہام ہوا معلوم نہیں کس کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے۔ (۱) شَرُّ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ( ترجمہ ) شرارت بدر جلد نمبر ۸ مورخه ۲۵ رمئی ۱۹۰۵ صفحه ۴