ملفوظات (جلد 7) — Page 143
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۳ جلد ہفتم اٹھنے میں اس کے لیے ہرج نہیں ۔ اور دوسرا جب اچھی طرح سورج چمک اٹھے تو اس وقت ہم بیت الدعا میں بیٹھتے ہیں ۔ یہ دونوں وقت قبولیت کے ہیں ۔ نماز میں تکلیف نہیں ۔ سادگی کے ساتھ اپنی زبان میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کرے۔ صلوٰۃ اور دعا میں فرق فرمایا۔ ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوۃ میں اور دعا میں کیا اور کیا فرق ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے الصَّلوةُ هِيَ الدُّعَاءُ۔ الصَّلوةُ مُخُ الْعِبَادَةِ یعنی نماز ہی دعا ہے نماز عبادت کا مغز ہے۔ جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لیے ہو تو اس کا نام صلوٰۃ نہیں لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مدنظر رکھتا ہے اور ادب ، انکسار، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوۃ میں ہوتا ہے۔ اصل حقیقت دعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔ یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کو نا معقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے۔ اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دعا کرے۔ یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں ہارج ہو جاتے ہیں۔ خاص کر خامی اور کیچ پنے کے زمانہ میں یہ امور ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں ۔صلوٰۃ کا لفظ پر سوز معنے پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ویسی ہی گدازش دعا میں پیدا ہونی چاہیے جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اس کا نام صلوۃ ہوتا ہے۔ نماز میں وساوس کی وجہ ایک شخص نے سوال کیا کہ مجھے نماز میں وساوس اور ادھر ادھر کے خیالات بہت پیدا ہوتے ہیں ۔ فرمایا ۔ اس کی اصل جڑامن اور غفلت ہے۔ جب انسان خدا تعالیٰ کے عذاب سے غافل ہو کر امن میں ہو جاتا ہے تب وساوس ہوتے ہیں۔ دیکھو! زلزلہ کے وقت اور کشتی میں بیٹھ کر جب کشتی خوفناک مقام پر پہنچتی ہے سب اللہ اللہ کرتے ہیں اور کسی کے دل میں وساوس پیدا نہیں ہوتے ۔