ملفوظات (جلد 7) — Page 126
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۶ جلد هفتم ہے۔ شاید اچھی طرح میری باتوں پر غور نہیں کی۔ اور وہ غلطی اور دھوکا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہماری جماعت میں سے طاعون سے فوت ہو جاوے تو اس قدر بے رحمی اور سرد مہری سے پیش آتے ہیں کہ جنازہ اٹھانے والا بھی نہیں ملتا ۔ در حقیقت جیسا کہ قاضی امیر حسین صاحب نے لکھا ہے یہ مصیبت تو ماتم سے بھی بڑھ کر ہے۔ یادرکھو تم میں اس وقت دوا خوتیں جمع ہو چکی ہیں ۔ ایک تو اسلامی اخوت اور دوسری اس سلسلہ کی اخوت ہے۔ پھر ان دواخوتوں کے ہوتے ہوئے گریز اور سرد مہری ہو تو یہ سخت قابلِ اعتراض امر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسے مسافر اپنے گھروں میں ہوتے تو وہ جو خارج از مذہب سمجھتے ہیں اور اور کافر کہتے ہیں ان میں بھی اس قسم کی سرد مہری نہ ہوتی۔ لیکن یہ سردمہری کیوں ہوتی ہے؟ دو باتوں کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ۔ افراط اور تفریط کا ۔ اگر افراط اور تفریط کو چھوڑ کر اعتدال سے کام لیا جاوے تو ایسی شکایت پیدا نہ ہو جبکہ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ (العصر : ۴) وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد : ۱۸) کا حکم ہے تو پھر ایسے مردوں سے گریز کیوں کیا جاوے؟ اگر کسی کے مکان کو آگ لگ جاوے اور وہ پکار فریاد کرے تو جیسے یہ گناہ ہے کہ محض اس خیال سے کہ میں نہ جل جاؤں اس مکان کو اور اس میں رہنے والوں کو جلنے دے اور جا کر آگ بجھانے میں مدد نہ دے ویسے ہی یہ بھی معصیت ہے کہ ایسی بے احتیاطی سے اس میں کود پڑے کہ خود جل جاوے۔ ایسے موقع پر احتیاط مناسب کے ساتھ ضروری ہے کہ آگ بجھانے میں اس کی مدد کرے ۔ پس اسی طریق پر یہاں بھی سلوک ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے جا بجا رحم کی تعلیم دی ہے۔ یہی اخوت اسلامی کا منشا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ تمام مسلمان مومن آپس میں بھائی ہیں۔ ایسی صورت میں کہ تم میں اسلامی اخوت قائم ہوا اور پھر اس سلسلہ میں ہونے کی وجہ سے دوسری اخوت بھی ساتھ ہو یہ بڑی غلطی ہوگی کہ کوئی شخص مصیبت میں گرفتار ہو اور قضا و قدر سے اسے ماتم پیش آجاوے تو دوسرا تجہیز و تکفین میں بھی اس کا شریک نہ ہو۔ ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کا یہ منشا نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جنگ میں شہید ہوتے یا مجروح ہو جاتے تو میں یقین نہیں رکھتا کہ صحابہ انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہوں یا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر راضی ہو جاتے کہ وہ ان کو چھوڑ کر چلے جاویں۔