ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 125

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۵ جلد ہفتم فرمایا کہ ٹھیک ہے مگر چور کا لفظ کچھ زیب نہیں دیتا ہے۔ قرآن شریف میں بہت مناسب لفظ ہے کہ بغتةً یعنی اچانک آئے گا پہلے کچھ خبر نہ ہوگی ۔ فرمایا۔ شاید اس میں کچھ دیر ہو جائے تا کہ لوگ پوری طرح شوخیاں کر لیں اور اپنے واسطے او عذاب کے سامان اچھی طرح جمع کر لیں پھر اچانک یہ آفت ان پر پڑے گی ۔ لے ۲۸ را پریل ۱۹۰۵ء رویا میں دیکھا کہ ایک سفید سا کپڑا بچھا ہوا ہے۔ اس پر کسی نے ایک انگشتری رکھ دی ہے اس کے بعد یہ وحی نازل ہوئی ۔ فتح نمایاں ہماری فتح " یعنی واقعات آئندہ کے واسطے جو پیش گوئیاں کی ہوئی ہیں ۔ اور جن پر دشمن ہنسی کرتا ہے ان کو خدا تعالیٰ پورا کر کے ہماری صداقت دنیا پر ظاہر کر دے گا۔ اور لوگ نیک چلنی اختیار کریں گے۔ اور خدا پر ایمان لائیں گے۔ صَدَّقْتَ الرُّؤْيا سچا کیا تو نے خواب کو ۔ إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ آتِيكَ بَغْتَةً یعنی میں اپنی فرشتوں کی فوجوں کے ساتھ اس وقت آؤں گا کہ کسی کو گمان بھی نہ ہوگا کہ ایسا حادثہ ہونے والا ہے ۔ کے ( بعد نماز جمعه ) اللہ باہمی ہمدردی اور اخوت کی تلقین اعلی حضرت جی ال سی موعود علیہ الصلوة والسلام پر فرمائی ۔ نے مندرجہ ذیل تقریر با ہم ہمدردی اور حقوق اخوت میں صرف اس قدر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہماری اس جماعت کو ایک قسم کا دھوکا لگا ہوا ل بدر جلد ا نمبر ۴ مورخه ۲۷ را پریل ۱۹۰۵ ء صفحه ۸ بدر جلد ا نمبر ۴ مورخه ۲۷ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۱