ملفوظات (جلد 7) — Page 127
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۷ جلد ہفتم میں سمجھتا ہوں کہ ایسی وارداتوں کے وقت ہمدردی بھی ہو سکتی ہے اور احتیاط مناسب بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ اوّل تو کتاب اللہ سے یہ مسئلہ ملتا ہی نہیں کہ کوئی مرض لازمی طور پر دوسرے کو لگ بھی جاتی ہے۔ ہاں جس قدر تجارب سے معلوم ہوتا ہے اس کے لیے بھی نص قرآنی سے احتیاط مناسب کا پتہ لگتا ہے۔ جہاں ایسا مرکز وبا کا ہو کہ وہ شدت سے پھیلی ہوئی ہو وہاں احتیاط کرے۔ لیکن اس کے بھی یہ معنے نہیں کہ ہمدردی ہی چھوڑ دے۔ خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے کہ انسان ایک میت سے اس قدر بعد اختیار کرے کہ میت کی ذلت ہو اور پھر اس کے ساتھ ساری جماعت کی ذلت ہو۔ آئندہ خوب یا درکھو کہ ہرگز اس بات کو نہیں کرنا چاہیے جبکہ خدا تعالیٰ نے تمہیں با ہم بھائی بنا دیا ہے پھر نفرت اور بعد کیوں ہے۔ اگر وہ بھی مرے گا تو اس کی بھی کوئی خبر نہ لے گا اور اس طرح پر اخوت کے حقوق تلف ہو جائیں گے۔ خدا تعالیٰ نے دو ہی قسم کے حقوق رکھتے ہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد ۔ جو شخص حقوق العباد کی پروا نہیں کرتا وہ آخر حقوق اللہ کو بھی چھوڑ دیتا ہے کیونکہ حقوق العباد کا لحاظ رکھنا یہ بھی تو امر الہی ہے جو حقوق اللہ کے نیچے ہے۔ یہ خوب یا د رکھو کہ اللہ تعالیٰ پر تو گل بھی کوئی چیز ہے۔ یہ مت سمجھو کہ تم نری پر ہیزوں سے بچ سکتے ہو۔ جب تک خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو اور انسان اپنے آپ کو کارآمد انسان نہ بنالے اس وقت تک اللہ تعالیٰ اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتا خواہ وہ ہزار بھاگتا پھرے۔ کیا وہ لوگ جو طاعون میں مبتلا ہوتے ہیں وہ پر ہیز نہیں کرتے؟ میں نے سنا ہے کہ لاہور میں نواب صاحب کے قریب ہی ایک انگریز رہتا تھا وہ مبتلا ہو گیا ۔ حالانکہ یہ لوگ تو بڑے پر ہیز کرنے والے ہوتے ہیں۔ نرا پر ہیز کچھ چیز نہیں جب تک خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو۔ پس آئندہ کے لیے یا درکھو کہ حقوق اخوت کو ہر گز نہ چھوڑو ورنہ حقوق اللہ بھی نہ رہیں گے۔ خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ طاعون کا سلسلہ جو مرکز پنجاب ہو گیا ہے کب تک جاری رہے لیکن مجھے یہی بتایا گیا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ اللہ تعالیٰ کبھی حالت قوم میں تبدیلی نہ کرے گا جب تک لوگ دلوں کی تبدیلی نہ