ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 102

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۲ جلد ہفتم کیونکہ خدا تعالیٰ ایک مسلم اور غیر مسلم میں تمیز رکھتا ہے اور فرماتا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا ( الشَّمس : ١٠) ۔ لیکن وحی کو کشف نہیں پاسکتا۔ یہ وحی کی ہی قدر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے ارادہ سے اس کے لیے ایک شخص کو انتخاب کرتا ہے اور شرف مکالمہ بخشتا ہے اور ہر میدان میں اس کا حافظ و ناصر ہوتا ہے اور صاحب وحی کے تعلقات دن بدن خدا سے قائم ہوتے اور بڑھتے جاتے ہیں اور ایمان میں غیر معمولی ترقی روز مشاہدہ کرتا ہے۔ لے ۲۵ مارچ ۱۹۰۵ء (بوقت عصر ) نماز سے : اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور اپنی صداقت پر کمال یقین صاحبزادہ سراج الحق صاب نعمانی نے اپنے بڑے بھائی شاہ خلیل الرحمن صاحب سجادہ نشین سر ساوہ کا خط سنایا جس میں انہوں نے حضرت حجتہ اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت بطور پیشگوئی لکھا تھا کہ وہ جلد فوت ہو جائیں گے اور ان کے سلسلہ کا خاتمہ ہو جائے گا اور یہ بھی لکھا تھا کہ میں کشف قبور کر سکتا ہوں اور کراسکتا ہوں ۔ اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو وہ بھی مجھے کشف قبور خاکہ کر کے دکھا ئیں وغیرہ۔ ملخصاً ۔ حضرت اقدس نے سرسری طور پر اس کارڈ کو سن لیا۔ پھر نماز عصر ادا فرمائی ۔ بعد نماز عصر کوئی ایسی تحریک آپ کو ہوئی کہ آپ نے صاحبزادہ سراج الحق صاحب کو وہیں مسجد ہی میں بلایا اور فرمایا کہ جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ آپ ان کو اپنی طرف سے ایک خط لکھ دو کہ یہ پیشگوئی جو آپ نے کی ہے اس سے میری تو برسوں کوا۔ کی مراد بر آئی۔ میں یہی چاہتا تھا کیونکہ اس سے سچائی کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ لیکن مہربانی کر کے اتنی تصریح کر دو کہ کیا وہ (مرزا صاحب ) آپ سے پہلے فوت ہوں گے یا پیچھے تا کہ پھر اس پیشگوئی کو آپ کی کرامت قرار دے کر شائع کر دیا جاوے ۔ جب یہ پیشگوئی پوری ہوگی اس وقت دنیا د یکھ لے گی ۔ پس آپ اب ہرگز دیر نہ کریں ۔ بہت جلد اس امر کو لکھ بھیجیں ۔ اور کشف قبور کا معاملہ تو بالکل ل البدر جلد ۴ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۲ نیز الحکم جلد ۹ نمبر ۹ مورخه ۱۷ / مارچ ۱۹۰۵ ء صفحه ۹