ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 103

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۳ جلد ہفتم بیہودہ امر ہے۔ جو شخص زندہ خدا سے کلام کرتا ہے اور اس کی تازہ بتازہ وحی اس پر آتی ہے اور اس کے ہزاروں نہیں لاکھوں ثبوت بھی موجود ہیں ۔ اس کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ مردوں سے کلام کرے اور مردوں کی تلاش کرے اور اس امر کا ثبوت ہی کیا ہے کہ فلاں مردے سے کلام کیا ہے۔ یہاں تو لاکھوں ثبوت موجود ہیں ۔ ایک ایک کارڈ اور ایک ایک آدمی اور ایک ایک روپیہ جو اب آتا ہے وہ خدا کا ایک زبر دست نشان ہے۔ کیونکہ ایک عرصہ دراز پیشتر خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ یا تون مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ - وَيَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ۔ اور ایسے وقت فرمایا تھا کہ کوئی شخص بھی مجھے نہ جانتا تھا۔ اب یہ پیشگوئی کیسے زور شور سے پوری ہو رہی ہے۔ کیا اس کی کوئی نظیر بھی ہے؟ غرض ہمیں ضرورت کیا پڑی ہے کہ ہم زندہ خدا کو چھوڑ کر مردوں کو تلاش کریں ؟ اے ۲۷ مارچ ۱۹۰۵ء (بوقت ظهر ) چکنے کے بعد ان ہو چکنے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اہم مکتوب ظہر کی اذان ہو اعلیٰ حضرت تشریف لائے۔ باہر سے آئے ہوئے مہمانوں نے شرف زیارت پایا۔ زاں بعد حضرت مخدوم الملت مولوی عبدالکریم صاحب نے بابو عطا الہی صاحب سٹیشن ماسٹر کی طرف سے حصولِ اجازت کے لیے عرض کیا۔ آپ نے بابو عطا الہی صاحب کو بلا کر فرمایا کہ مئی، جون، جولائی وغیرہ مہینوں میں کوئی موقع یہاں رہنے کے لیے نکالنا چاہیے۔ آئندہ جب رخصت لو تو ان مہینوں کو مد نظر رکھ لینا۔ اس کے بعد حضرت مخدوم الملت نے عرض کیا کہ میں نے حضور کا وہ خط اخبار میں شائع کرنے کو دے دیا ہے اور اس پر ایک مضمون بھی لکھ دیا ہے۔ فرمایا ۔ بہت اچھا کیا ؟ ہے الحکم جلد 9 نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۱۱ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۶