ملفوظات (جلد 7) — Page 101
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۱ جلد ہفتم حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن وحی سوائے مسلمان کے دوسرے کو نہیں ہو سکتی ۔ یہ اسی امت کا حصہ ہے۔ کیونکہ کشف تو ایک فطرتی خاصہ انسان کا ہے اور ریاضت سے یہ حاصل ہو سکتا ہے خواہ کوئی کرے کیونکہ فطرتی امر ہے جیسے جیسے کوئی اس میں مشق اور محنت کرے گا ویسے ویسے اس پر اس کی حالتیں طاری ہوں گی اور ہر نیک و بد کو رو یا کا ہونا اس امر پر دلیل ہے۔ دیکھا ہوگا کہ سچی خوا ہیں بعض فاسق وفاجر لوگوں کو بھی آجاتی ہیں ۔ پس جیسے ان کو سچی خوابیں آتی ہیں ویسے ہی زیادہ مشق سے کشف بھی ان کو ہو سکتے ہیں۔ حتی کہ حیوان بھی صاحب کشف ہو سکتا ہے لیکن الہام یعنی وحی الہی ایسی شے ہے کہ جب تک خدا سے پوری صلح نہ ہو اور اس کی اطاعت کے لیے اس نے گردن نہ رکھ دی ہو تب تک وہ کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی ۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمُ تُوعَدُونَ ( حم السجدة : ۳۱) یہ اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔ نزول وحی کا صرف ان کے ساتھ وابستہ ہے جو کہ خدا کی راہ میں مستقیم ہیں اور وہ صرف مسلمان ہی ہیں ۔ وحی ہی وہ شے ہے کہ جس سے آنا الموجود کی آواز کان میں آکر ہر ایک شک اور شبہ سے ایمان کو نجات دیتی ہے اور بغیر جس کے مرتبہ یقین کامل کا انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ لیکن کشف میں یہ آواز کبھی نہیں سنائی دیتی اور یہی وجہ ہے کہ صاحب کشف ایک دہر یہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن صاحب وحی کبھی دہر یہ نہیں ہوگا۔ اس مقام پر حضرت نور الدین صاحب حکیم الامت نے عرض کی کہ حضور سائل کا منشا یہ ہے کہ یہ خواہش کسی طرح دل سے دور ہو جاوے۔ خدا کے برگزیدہ اور محبوب نے فرمایا کہ ان کے دل میں کشف کی جو عظمت بیٹھی ہوئی ہے جب تک وہ نہ دور ہوگی تو علاج کیسے ہو گا اسی لیے تو میں فرق بیان کر رہا ہوں ۔ ہمارے ہاں ایک چوڑھی ( خاکروبہ ) آتی ہے وہ بھی سچی خوابوں کا ایک سلسلہ بیان کیا کرتی ہے لیکن اس سے اس کا عنداللہ مقرب ہونا یا صاحب کرامت ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک مسلمان کا کشف جس قدر صاف ہوگا اس قدر غیر مسلم کا ہرگز صاف نہ ہوگا