ملفوظات (جلد 7) — Page 100
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۰ جلد ہفتم کام ہے۔ اب اس وقت یہی مناسب حال ہے کہ خلوت بہت ہوا اور ذکر الہی سے قلب غافل نہ ہو۔ اگر انسان اس کی مداومت اختیار کرے تو آخر کا ر قلب مؤثر ہو جاتا ہے اور ایک تبدیلی انسان اپنے اندر دیکھتا ہے۔ کشف کیا ہے یہ رویا کا ایک اعلیٰ مقام اور مرتبہ ہے اس کشف رویا کا اعلیٰ درجہ ہے کی ابتدائی حالت کی جس میں غیبت جس ہوتی ہے صرف اس کو خواب (رویا) کہتے ہیں۔ جسم بالکل معطل بیکار ہوتا ہے اور حواس کا ظاہری فعل بالکل ساکت ہوتا ہے۔ لیکن کشف میں دوسرے حواس کی غیبت نہیں ہوتی ۔ بیداری کے عالم میں انسان وہ کچھ دیکھتا ہے جو کہ وہ نیند کی حالت میں حواس کے معطل ہونے کے عالم میں دیکھتا تھا۔ کشف اسے کہتے ہیں کہ انسان پر بیداری کے عالم میں ایک ایسی ربودگی طاری ہو کہ وہ سب کچھ جانتا بھی ہو اور حواس خمسہ اس کے کام بھی کر رہے ہوں اور ایک ایسی ہوا چلے کہ نئے حواس اسے مل جاویں جن سے وہ عالم غیب کے نظارے دیکھ لے۔ وہ حواس مختلف طور سے ملتے ہیں۔ کبھی بھر میں، کبھی شامہ ( سونگھنے ) میں کبھی سمع میں ۔ شامہ میں اس طرح جیسے کہ حضرت یوسف کے والد نے کہا لاجد رِيحَ يُوسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفَتِّدُونِ (یوسف: ۹۵ ) ( کہ مجھے یوسف کی خوشبو آتی ہے۔ اگر تم یہ نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا ) ۔ اس سے مراد وہی نئے حواس ہیں جو کہ یعقوب کو اس وقت حاصل ہوئے اور انہوں نے معلوم کیا کہ یوسف زندہ موجود ہے اور ملنے والا ہے۔ اس خوشبو کو دوسرے پاس والے نہ سونگھ سکے کیونکہ ان کو وہ حواس نہ ملے تھے جو کہ یعقوب کو ملے ۔ جیسے گڑ سے شکر بنتی ہے اور شکر سے کھانڈ اور کھانڈ سے اور دوسری شیرینیاں لطیف در لطیف بنتی ہیں۔ ایسے ہی رؤیا کی حالت ترقی کرتی کرتی کشف کا رنگ اختیار کرتی ہے اور جب وہ بہت صفائی پر آجاوے تو اس کا نام کشف ہوتا ہے۔ کشف اور روحی میں فرق لیکن وحی ایسی شے ہے جو کہ اس سے بدرجہا بڑھ کر صاف ہے اور اس کے حاصل ہونے کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ کشف تو ایک ہندو کو بھی ہو سکتا ہے بلکہ ایک دہر یہ بھی جو خدا کو نہ مانتا ہو وہ بھی اس میں کچھ نہ کچھ کمال