ملفوظات (جلد 7) — Page 99
ملفوظات حضرت مسیح موعود قلوب کا ایک جذب تھا۔ ۱۰ مارچ ۱۹۰۵ء ( بوقت شب ) پیرانہ سالی کے لحاظ سے عمدہ مجاہدہ ۹۹ جلد ہفتم ایک صاحب نے عرض کی کہ ایک عرصہ سے میرے دل میں خواہش ہے کہ کشف کی حالت طاری ہو اور اگرچہ میں اپنے علم کے رو سے جانتا ہوں کہ اس کا حاصل ہونا کوئی کمالات میں سے نہیں ہے مگر تاہم اس کا خیال ہرگز دور نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کچھ شفاعت فرماویں۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کا تعلق مجاہدات اور ریاضات سے ہے۔ لیکن اب آپ کی عمران کی متحمل نظر نہیں آتی۔ عالم شباب میں ایسے مجاہدات اور ریاضات انسان کر سکتا ہے جس سے اس پر یہ حالت جلد طاری ہو۔ پیرانہ سالی میں قومی ضعیف ہو جاتے ہیں ۔ معدہ کام کرنے سے رہ جاتا ہے۔ اس لیے مجاہدات میں استقامت حاصل نہیں ہوتی ۔ آپ کے مناسب حال اگر کوئی مجاہدہ ہے تو میری رائے میں یہ ہے کہ خلوت کے درمیان ذکر الہی اور توجہ الی اللہ کی کثرت کریں ۔ غیر اللہ کو قلب سے دفع کرنا اور اللہ تعالیٰ کو اس کا مسکن بنالینا آسان بات نہیں ہے۔ یہی بڑا مجاہدہ ہے ۔ بیہودہ مجلسوں اور قیل و قال سے الگ رہیے۔ اور غفلت کے پردہ کو جو کہ انسان کی زندگی پر پڑے ہوئے ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ پیرانہ سالی کے لحاظ سے یہ عمدہ مجاہدہ ہے جس سے تزکیہ نفس ہو سکتا ہے کیونکہ اب اس عمر میں نوافل اور روزے وغیرہ کی برداشت مشکل ہے۔ اصل مطلب میرا اس شعر میں خوب بیان ہے۔ لب به بند و گوش بند و چشم بند گر نه بینی نور حق بر ما بخند کہ انسان اپنی زبان کو اور کانوں اور آنکھوں کو اپنے قابو میں ایسا کرے کہ سوائے رضائے حق کے اور ان سے کوئی فعل صادر نہ ہو۔ انسانی زندگی میں جو بے اعتدالی ہوتی ہے اسے اعتدال پر لانا بڑا الحکم جلد ۹ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحه ۱۰،۹