ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 98

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۸ جلد ہفتم مسلمان کہلائے گا۔ ابراہیم کی طرح صادق اور وفادار ہونا چاہیے۔ جس طرح پر وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا اسی طرح انسان ساری دنیا کی خواہشوں اور آرزوؤں کو جب تک قربان نہیں کر دیتا کچھ نہیں بنتا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو ایک جذبہ پیدا ہو جاوے اس وقت اللہ تعالیٰ خود اس کا متکفل اور کارساز ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر کبھی بدظنی نہیں کرنی چاہیے اگر نقص اور خرابی ہوگی تو ہم میں ہوگی ۔ پس یا د رکھو کہ جب تک انسان خدا کا نہ ہو جاوے بات نہیں بنتی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جاتا ہے اس میں شتاب کاری نہیں رہتی ۔ مشکل یہی ہے کہ لوگ جلد گھبرا جاتے ہیں اور پھر شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ سائل ۔ ابتدائی منزل اس مقصد کے حصول کی کیا ہے؟ حضرت اقدس ۔ ابتدائی منزل یہی ہے کہ جسم کو اسلام کا تابع کرے۔ جسم ایسی چیز ہے جو ہر طرف لگ سکتا ہے ۔ بتاؤ زمینداروں کو کون سکھاتا ہے جو جیٹھ ہاڑ کی سخت دھوپ میں باہر جا کر کام کرتے ہیں اور سخت سردیوں میں آدھی آدھی رات کو اٹھ کر باہر جاتے اور ہل چلاتے ہیں ۔ پس جسم کو تے ہیں اور سخت سے جس طریق پر لگاؤ اسی طریق پر لگ جاتا ہے۔ ہاں اس کے لیے ضرورت ہے عزم کی ۔ کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ مٹی کھایا کرتا تھا۔ بہت تجویزیں کی گئیں مگر وہ باز نہیں رہ سکتا تھا۔ آخر ایک طبیب آیا اور اس نے دعوی کیا کہ میں اس کو روک دوں گا ۔ چنانچہ اس نے بادشاہ کو مخاطب کر کے کہا أَيُّهَا الْمَلِكُ أَيْنَ عَزْمُ الْمُلُوكِ یعنی اے بادشاہ! وہ بادشاہوں والا عزم کہاں گیا؟ یہ سن کر بادشاہ نے کہا اب میں مٹی نہیں کھاؤں گا۔ پس عزم مومن بھی تو کوئی چیز ہے۔ سائل ۔ عزم کرتے تو آپ کی کیا ضرورت ہے؟ حضرت اقدس۔ بات یہ ہے کہ جب نفوس صافیہ کا جذب ہوتا ہے تو ممد و معاون بھی پیدا ہو جاتے ہیں ۔ صحابہ کے دل اچھے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک رسول بھی پیدا کر دیا۔ ایسا ہی کہتے ہیں کہ مکہ سے جو مدینہ کی طرف ہجرت کی اس میں بھی یہی سر تھا کہ وہاں کے اصلاح پذیر